ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر سحر کامران نے اسلامی نظریاتی کونسل میں خواتین کی تعداد بڑھانے کی قرارداد ایک ایسے وقت میں جمع کرائی ہے، جب پہلے ہی پیپلز پارٹی کے سینیٹرز اور سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواتین مخالف بیانات اور صرف شادی و خواتین کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھنے پر اسلامی نظریاتی کونسل کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
سحر کامران کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خواتین کو ان کی آبادی کے تناسب سےاسلامی نظریاتی کونسل میں رکنیت دی جائے، تاکہ وہ اپنے متعلق قانون بنانے والے اس اہم ترین ادارے میں قانون سازی میں اپنی نمائندگی کرسکیں۔
سحر کامران کی قرارداد کو بحث کے لیے سینیٹ ایجنڈا میں شامل کرلیا گیا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل مختلف بلوں کا اسلام کی روح سے قرآن و حدیث کے مطابق جائزہ لینے کے بعد قانون سازی کرنے والے اداروں کو تجاویز فراہم کرتی ہے، اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کے 10 ارکان میں صرف ایک خاتون رکن شامل ہیں۔