
ایکنا نیوز- روزنامه «USA Today» کے مطابق ڈھاکہ میں ہزاروں مسلمانوں نے مظاہرہ کرکے برما میں نسل کشی روکنے کا مطالبہ کیا
مظاہرین برما کی حکومت کی مذمت کے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت سے سرحدیں کھولنے اور برمی مسلمانوں کو پناہ دینے کا بھی مطالبہ کررہے تھے
بنگلہ دیش کے علاوہ انڈونیشیاء، ملایشیاء اور تھائی لینڈ میں بھی مظاہرے ہوئے جنمیں برما کے مسلمانوں کے ساتھ وابستگی کا اعلان کیا گیا
انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی اور انکی حکومت کو مسلم نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انکی تصاویر بھی نذر آتش کیے۔
انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی میانمار میں مسلم نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہویے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انکو پناہ دینے کے لیے اقدامات کریں
قابل ذکر ہے کہ راکھین صوبے میں نو پولیس اہلکاروں کے قتل پر مسلم کشی کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جسمیں اب تک ہزاروں مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا جاچکا ہے جبکہ مسلم جوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔
3548972