
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «STWNewsPress»،کے مطابق پیرس شہر میں داعش کے حملے کے بعد سے امریکی مسلمان طالبہ «ریم منزی» شدید متاثر ہوئی تھی۔
ریم جو خود ایک محجبہ طالبہ ہے اس بات سے پریشان
تھی کہ داعش خود کو مسلمان کے طور پر پیش کررہی ہے اور اس سے انکی زندگی بحثیت
مسلمان دشوار ہورہی ہے
انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے شاعری شروع کی تاکہ خود کو بعنوان پیروقرآن اور داعش کے درمیان فرق کو واضح کرسکے۔
ریم نے « وہ میری پہچان نہیں» کے عنوان سے شاعری شروع کی۔
پندرہ سالہ
طالبہ کا کہنا ہے: میں نہیں چاہتی تھی کہ داعش کے رو سے لوگ مجھے مسلمان سمجھے بلکہ
مسلمان تو مہربان ہے جو سب کی مدد کرنے والا ہے بالکل داعش کے برعکس۔
انکی شاعری کا لب لباب یہ ہے کہ قرآن وہ ہے جس کو میں پڑھتی ہوں اور داعش کا اس پرایمان نہیں ، قرآن صلح چاہتا ہے وہ داعش دنیا پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے۔
مصری نژاد ریم منزی شیکاگو میں پیدا ہوئی ہے اور چھ سال کی عمر سے اسٹیلوٹر میں مقیم ہے
.
اوپن مساجد کے حوالے سے مہم میں بھی انہوں نے شاعری
پیش کی جسکو سامعین نے خوب سراہا ۔
منزی کے ٹیچر اور پرنسپل نے بھی انکی شاعری اور شجاعت
کو قابل ستایش قرار دیا ہے۔
ریم منزی کے اسکول کی پرنسپل «اووه گوردن» کا کہنا ہے : امریکی صدارتی انتخابات سے قبل اسلام فوبیا کی صورتحال اتنی ابتر نہ تھی مگر انتخابات کے بعد شدت پسندوں کی گستاخی حد سے بڑھ گئی ہے ۔
منزی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ دنیا میں ایک ان امن و صلح نافذ ہوکر رہے گا۔