
ایکنا نیوز- المیادین نیوز ایجنسی کے مطابق شام کے مفتی اعظم شیخ حسون نے دوبلین میں آیرلینڈ کے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا : دو عرب ممالک نے سفارش کی کہ شیخ حسون ایک سیکولر شخص ہے انکو پالیمنٹ سے خطاب نہ کرنے دیا جائے
انکا کہنا ہے: شام کے بحران کے آغاز میں ایک عرب شہزادے نے مجھے آفر کی کہ میں ملک چھوڑ دوں اور بدلے میں مجھے بہت کچھ ملے گا مگر جب میں نے انکی بات ماننے سے انکار کیا تو میرے بیٹے کو دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کروایا۔
شیخ «احمد بدرالدین حسون» نے کہا کہ شام تین لاکھ دہشت گردوں سے جنگ میں بھاری تاوان ادا کرچکا ہے جو دنیا بھر سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔
شیخ حسون نے کہا کہ بعض میڈیا غلط رپورٹنگ کررہا ہے اور میری درخواست ہے کہ یورپی حکمران خود جاکر شام میں حالات کو نزدیک سے مشاہدہ کریں ۔
انکا کہنا ہے کہ روس اور ایران شام کی درخواست پر لاکھوں دہشت گردوں سے مقابلے کے لیے آئے ہیں اور اس وقت عام شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں نہ کہ روس یا ایران کے ہاتھوں اور شامی حکومت اپنے ہاتھوں اپنے بنایے ہوئے کلیسا ، گرجا گھر، مساجد اور یونیورسٹیاں کیوں تباہ کرے گی ۔
انہوں نے پارلیمنٹ سے کہا کہ آپ سبکی مدد کی ضرورت ہے اور یہ دہشت گرد ہیں جو عسیائی بچوں کو بھی زبح کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔
انہوں نے یورپی حکمرانوں سے کہا کہ اگر آپ صلح چاہتے ہیں تو شام جاکر بشار سے ملاقات کریں اور پھر فیصلہ کریں۔