
ایکنا نیوز- تہران میں عالمی وحدت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملایشیاء کے مفتی عبدالهادی آونگ نے کہا کہ مسلمانوں میں اختلاف،جھگڑے اور جنگ کو فروغ دینے والے وہ لوگ ہیں جو ان اقدامات سے اپنے اسلحے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا : کچھ لوگ ہیں جو اپنے اسلحے کے کارخانوں کو فعال رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کو حصول یقینی بناسکے چاہے اسکے لیے علاقے میں بدامنی ہی کیوں نہ پھیلانا پڑے
ملایشیا کے مفتی نے کہا کہ ضرورت ہے کہ مسلم دانشور ان عوامل پر غوروفکر اور راہ حل پیدا کریں۔
آونگ نے کہا کہ صھیونی عناصر جدید میڈل ایسٹ کے لیے قومی اور مذہبی تعصبات کو ابھار کر مسایل پیداکرنا چاہتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ نادان مسلمان بھی انکے آلہ کاروں کا کردار ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایمان رکھا چاہیے کہ شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں اور ہم ایک مسلمان اور آپس میں بھائی ہیں ۔
آونگ نے کہا کہ صھیونی رژیم اس بات میں کامیاب ہوچکا ہے کہ علاقے میں کچھ نادان حلیف پیدا کرے اور کیمپ ڈیویڈ جیسی سازشیں اب بھی ہورہی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اس وقت اس امر کی ضرورت ہے کہ ملایشیاء،انڈونیشیاء ، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک متحد ہوجائیں اور اسلام دشمنوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں ۔