
ایکنا نیوزسے گفتگو میں آسٹریلیا کے سابق مفتی شیخ «تاجالدین هلالی» نے کہا کہ جوانوں کی فکری تربیت کی روش میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے
انہوں نے مسلمان علما کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہ تکفیری عناصر دن رات اسلام کا چہرہ خراب کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں جنکی بعض طاقتوں کی جانب سے بھرپور مالی حمایت کی جارہی ہے
شیخ تاجالدین هلالی نے کہا کہ تکفیریوں کے حامی تکفیروالحاد کا سرچشمہ ہیں جنکے افکار دہشت گردانہ پروان چڑھانے کے لیے سازگار ہیں۔
اسلامی بیداری کونسل کے رکن نے کہا کہ عقل سے عاری ان افراد کو مغربی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ایک قسم کا ٹایم بم بنالیا ہے ۔
سابق مفتی نے کہا کہ شدت پسندی اور تندروی کی وجہ سے تکفیری اور دہشت گردی کے افکار پروان چڑھتے ہیں
اور ان مسایل کو ابھارنے والے سرچشموں سے جوانوں کو آگاہ کرنا علما کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انکا کہنا تھا کہ بغیر بصارت کے کم علمی کے ساتھ تکفیری فتوے صادر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور جوانوں کو ان حالات سے آگاہ کرنا چاہیے اور انکی فکری تربیت کے انداز کو بدلنا ہوگا
آسٹریلیا کے سابق مفتی نے تکفیریوں کے سنیوں کے دفاع کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کے ہاتھوں بڑی تعداد میں اہل سنت مارے گیے ہیں مگر یہ خود کو اہل سنت کے حامی قرار دیتے ہیں۔
شیخ تاجالدین هلالی نے تہران میں عالمی وحدت کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا : اس کانفرنس کے قراردار اور تجاویز پر عمل سے مسایل کے حل میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے اور میڈیا کو بھی اسلام کے حقیقی پیغامات کے انعکاس میں کوشش کرنی چاہیے۔