ایکنا نیوز- شفقنا- اوریا مقبول جان جو آج کل ٹرمپ کی تعریفیں کرتے دکھائے دیتے ہیں، ان کے اس دعوے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ داعش کو ایران اور امریکہ نے مل کر بنایا ہے کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ بات سچ لگتی ہے۔
اوریا نے ٹرمپ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے مثال دی ہے کہ داعش نے کبھی ایران پر حملہ نہیں کیا اس سے ٹرمپ کا بیان سچ لگتا ہے۔ لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ اگر کسی ملک نے اپنی سیکورٹی اتنی مضبوط بنائی ہوئی ہے تو آپ کے پیٹ میں کیوں درد ہو رہا ہے؟
اگر داعش ایران نے بنائی ہے تو وہ صرف شیعہ مسلمانوں کا ہی کیوں قتل عام کرتے ہیں؟ اگر داعش ایران نے بنائی ہے تو وہ مقدس مقامات کو کیوں مسمار کر رہے ہیں؟ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ میں کتنی کشیدگی ہے دنیا جانتی ہے اور دونوں ملک کئی دفعہ جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ ایرانی عوام کئی عشروں سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ ان حالات میں ایران اور اوباما مل کر داعش بنائیں گے۔ واہ اوریا صاحب واہ! اللہ آپ کو امریکہ میں ہی ہدایت دے دے۔
اوریا مقبول جان کی غیر منطقی گفتگو سن کر انسان کو ان پاکستان کے میڈیا مالکان کی بے حسی پر افسوس ہوتا ہے جنہوں نے ایسے لوگ ٹی وی پر بٹھا رکھے ہیں۔
اس ٹی وی پروگرام میں میزبان بھی جانبداری سے کام لے رہے تھے اور ان کے اس نقطے پر انتہائی خوش دکھائی دیے جیسے انہوں نے صدیوں پرانا مسئلہ حل کر لیا ہو۔ یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایسے لوگ پاکستان کے ٹی وی چینلز پر ریٹینگ کے چکر میں لوگوں کو جھوٹ کے ذریعے گمراہ کر رہے ہیں۔