آل سعود یمن میں ایک 'گرینڈ وہابی سلطنت' قائم کرنے کی کوشش میں ہے: کیتھرین شاکڈم

IQNA

آل سعود یمن میں ایک 'گرینڈ وہابی سلطنت' قائم کرنے کی کوشش میں ہے: کیتھرین شاکڈم

15:45 - December 23, 2016
خبر کا کوڈ: 3502159
بین الاقوامی گروپ: شفقنا-مشرق وسطیٰ امور کی برطانوی ماہر نے آل سعود کی مسلط کردہ جنگ کہ جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بے گناہ یمنیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی نواز سعودی حکومت یمن میں ایک عظیم وہابی سلطنت قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایکنانیوز- شفقنا-انہوں نے کہاکہ سعودی حکومت اپنے وحشیانہ اقدامات کے ذریعے فرقہ وارانہ بنیاد پر یمنی عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اوران اقدامات سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ سعودی حکام میں مسلمانوں کے تئیں نفرت کس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل سعود رژیم کو یمن میں نسل کشی کرنے کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کیونکہ یمن میں ایک آزاد شیعہ حکومت قائم ہونے سے آل سعود خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے یک طرفہ طور پر یمن پر حملہ کیاکیونکہ یمنی عوام نے بدعنوان سابق یمنی صدرمنصورہادی کے خلاف کھڑا ہونے کا عزم کیا۔

انہوں نے کہاکہ وہابیت کے پیروکارتکفیری دہشتگردگروہ داعش اورالقاعدہ کا سعودی عرب کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہےاورسابق یمنی صدر منصور ہادی نے بھی داعش اورالقاعدہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کیا ہے اورانہیں اپنی کابینہ کا حصہ بھی بنایا ہے کیونکہ وہ جنوبی یمن  میں ایک وہابی سلطنت قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ علاقے میں اپنی فوجی مداخلت کا جواز پیش کرنے کیلئے امریکہ علاقے کے ممالک کو فرقہ وارانہ اورنسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت واشنگٹن انقلابی عوامی تحریک انصاراللہ کوملک میں جمہوریت مخالف فورس  کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

کیتھرین شاکڈم نے کہاکہ امریکہ کبھی بھی یمن  میں انسانی المیہ کہ جسے پیدا کرنے میں اس کا اہم رول ہے پر کبھی توجہ نہیں دےگا کیونکہ یہ جنگی جرائم اورانسانیت کے خلاف جرائم کو تسلیم کرنے مترادف ہوگا۔

انہوں نے  کویت میں یمنی مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب کے ناقابل قبول مطالبات کے بعد ہی تحریک انصاراللہ نے مذاکرات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت آل سعود یمنی عوام کو ملک کی خودمختاری، اپنی سرزمین اورحق خود ارادیت کو ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کیتھرین شاکڈم نے کہاکہ یمنی عوام کبھی بھی ظلم کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے گی ۔

امریکیوں اورسعودی عرب کیلئے فرار کا واحد راستہ یہی ہےکہ وہ یمن  میں اپنی جارحیت فوری بند کریں ۔

قابل ذکر ہےکہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھاہےکہ سعودی عرب نے شام ،یمن اوردیگر مسلم ممالک میں وہابیت کی ترویج کیلئے ایک بڑی رقم خرچ کی ہے اوریہ ایسی سوچ ہے کہ جو آج داعش سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔

اخبار نے لکھاتھاکہ دنیا کے مختلف علاقوں حتیٰ کوسووسمیت یورپ میں وہابی سعودی مدارس کا قیام کہ جو نوجوانوں کے شام اورعراق میں داعش میں شامل ہونے کے ایک مرکز میں تبدیل ہوگئے ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں وہابی سوچ کو پھیلانے اوردہشتگردی کی لہر یورپ کے اندر تک پہنچانے کیلئے سعودی عرب کی سرمایہ کاری کانتیجہ ہے۔

واضح رہےکہ سعودی عرب نے 26 مارچ 2015 ء کو یمن کے خلاف فضائی جارحیت کا آغاز کیاتھا جس کے نتیجے میں ا ب تک 11 ہزار سے زائد یمنی شہید اوردیگر ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں آل سعود یمن کے اسکولوں ،ہسپتالوں ،رہائشی علاقوں ،سڑکوں ،بازاروں  اوربنیادی تنصیبات کو مسلسل فضائی جارحیت کا نشانہ بنارہی ہے۔ 

نظرات بینندگان
captcha