سندھ کے 23 فیصد 'غیر قانونی' مذہبی مدارس بند

IQNA

سندھ کے 23 فیصد 'غیر قانونی' مذہبی مدارس بند

7:51 - December 25, 2016
خبر کا کوڈ: 3502168
بین الاقوامی گروپ: حکام کے مطابق سندھ کے مدارس میں 10 لاکھ کے قریب طلب علم رجسٹر ہیں جن میں 818 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

سندھ کے 23 فیصد 'غیر قانونی' مذہبی مدارس بند


ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق صوبائی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اسپیشل برانچ نے 7724 مدارس کی شناخت کا عمل مکمل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے سندھ بھر میں 2309 مدارس کو مختلف وجوہات کی بنا پر بند کیا، ان میں سے کچھ غیر قانونی زمین پر قبضہ کرکے بنائے گئے تھے، دیگر غیر رجسٹر تھے اور کچھ حکومت کی اجازت کے بغیر چلائے جارہے تھے'۔

کراچی میں قائم 3733 مدارس میں سے 623 کو بند کیا گیا جبکہ حیدرآباد میں 2201 مدارس میں سے 910 کو بند کیا گیا۔


صوبے کے دیگر حصوں میں سکھر میں 1536 مدارس میں سے 420، میرپور خاص میں 750 مدارس میں سے 281 اور لاڑکانہ میں 1037 مدارس میں سے 75 کو بند کیا گیا، یہ مدارس یا تو غیر رجسٹر تھے یا غیر قانونی طور پر چلائے جارہے تھے۔

تاہم سینئر حکام کو دینی مدارس بل 2016 کے لیے پیش کی گئی ایک رپورٹ کو صوبائی حکومت اب بھی منظور کرنے سے قاصر ہے۔

اس بل کو قانونی شکل دینے کیلئے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظوری دی جاچکی ہے تاہم سندھ حکومت اس بل پر مختلف مذہبی گروپوں کی جانب سے ہونے والی تنقید، جن میں کچھ کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہیں، کی وجہ سے منظور کرانے میں ناکام ہے۔


اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا کہ انھیں مذکورہ قانون کے تحت وزارت مذہبی امور سے بھی منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس کے مطابق مذہبی تعلیم کے حوالے سے مدارس کو مذکورہ معیار پورا کرنا ہوگا۔

صوبائی وزارت داخلہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'اس سے قبل ہم یہ سمجھتے تھے کہ پورے کام میں ایک ماہ کا عرصہ درکار ہوگا، تاہم یہ بہت زیادہ ہمت والا کام تھا، جس میں ہمیں کئی ماہ لگ گئے'۔

اسلام آباد کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مدارس کی جیو ٹیگنگ، نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم نقطہ تھا تاکہ دہشت گردی کی بنیاد کو ختم کیا جائے۔


عسکریت پسندی کی تعلیم

ایک ماہ قبل سندھ حکومت نے شہر کے 93 مدارس کی نشاندہی اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کا منصوبہ بنایا تھا، ان مدارس پر عسکریت پسندی کی تعلیم دینے کا الزام تھا۔

تاہم مذکورہ رپورٹ اس حوالے سے خاموش ہے اور اس میں ان مدارس کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ شدت پسندی کے حامی مراکز اور مذہبی تنظیموں کی وجہ سے مدارس بل کی منظوری اور شدت پسند مدارس کے خلاف کارروایی میں تاخیر کی جارہی ہے۔

نظرات بینندگان
captcha