
ایکنا نیوز- العالم نیوز چینل کے مطابق مذکورہ امدادی کشتیوں کی روانگی کے لیے کوششیں جاری ہیں مگر اب تک برما کی حکومت اجازت دینے سے انکار کررہی ہے ۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کشتیوں کو روکنے کی زبردستی کوشش کی وجہ سے میانمار اور ملایشیا کے تعلقات بگڑ سکتے ہیں ۔
ملایشیاء کی حکومت نے برما میں مسلم نسل کشی پر برما کی شدید مذمت کی تھی
حالیہ مہینوں میں برما میں ہزاورں روہنگی مسلمان قتل اور آوارہ ہوچکے ہیں ۔
ملایشاء اسلامی کونسل کے جنرل سیکریٹری زولهاینس زینول کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت اجازت دینے سے انکار کررہی ہے مگر ہم کوشش کرتے رہیں گے۔
میانمار میں صدارتی ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امدادی کشتیوں کے حوالے سے ہمیں کوئی درخواست نہیں ملی ہے اور ہم غیر قانونی طور پر کسی بھی کشتی کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غیر برمی باشندوں کو ملکی حددو میں نہیں آنے دیں گے کیونکہ وہ ہمارے ملک کے شہری نہیں ہوں گے۔
ہزاروں ٹن خوراکی مواد اور ادویات پر مبنی کشتیاں دس جنوری کو ملایشیاء سے برما کے لیے روانہ ہوں گی۔