اقتدار کو امانت کے بجائے ملکیت سمجھنے والے حکمرانوں نےاپنی اولادوں کو مستقبل کیلئے تیار کرلیا ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

IQNA

اقتدار کو امانت کے بجائے ملکیت سمجھنے والے حکمرانوں نےاپنی اولادوں کو مستقبل کیلئے تیار کرلیا ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

13:59 - January 30, 2017
خبر کا کوڈ: 3502403
بین الاقوامی گروپ:سیاسی جماعتوں میں بھی تکفیری دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں جو کارروائی نہیں ہونے دیتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایساملک بن چکا ہے جس کی دیواریں نہیں، جوچاہتا ہے گھس آتا ہے

اقتدار کو امانت کے بجائے ملکیت سمجھنے والے حکمرانوں نےاپنی اولادوں کو مستقبل کیلئے تیار کرلیا ہے: علامہ راجہ ناصرعباس

ایکنا نیوز- شفقنا- ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہویےعلامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں بھی دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں جو کارروائی نہیں ہونے دیتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایساملک بن چکا ہے جس کی دیواریں نہیں، جوچاہتا ہے گھس آتا ہے اور دوسرے ممالک کیلئے یہاں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر شعبہ میں کرپشن ہے، پاکستان کی کمزوری کی وجہ جمہوریت پر شب خون مارنا ہے، یہاں قدم قدم پر جمہوریت کا گلہ گھونٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین یہ کہتا ہے کہ ملک میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور عوام کے منتخب نمائندے اسے بطور امانت استعمال کریں گے، لیکن یہاں حکمران آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر پورا نہیں اترتے، انہوں نے اپنی اولادیں تیار کی ہوئی ہیں کہ وہ ان کے بعد اقتدار سنبھالیں گی۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکمران عوام کو دھوکادے کر اقتدار میں آتے ہیں، پارلیمنٹ میں جھوٹاخطاب کرتے ہیں، یہ اخلاقی طور پر کمزور لوگ ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے، انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے کارکن ایک طویل عرصے سے لاپتہ ہیں، لیکن کوئی ان کے بارے میں نہیں بتا رہا، یہ کس قسم کا قانون ہے، ڈی آئی خان سے ایک نوجوان کو غائب کیا گیا، پانچ برس گزر گئے ہیں ناصر حسین کا کوئی علم نہیں کہ زندہ ہے یا مار دیا گیا ہے،پنجاب سے ہمارے علماء اور پڑھے لکھے پرامن نوجوانوں کو غائب کیا گیا ہے،جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں،یاد رکھیں حکومتیں کفر سے تو باقی رہ سکتی ہیں مگر ظلم سے نہیں،ہمارے چوبیس ہزار شہداء کے ورثا کو تو انصاف نہیں دے سکے لیکن دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کی خوشنودی کے لئے ہم پر ریاستی جبر جاری ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ انسان کی طرح وطن کی بھی ناموس ہوتی ہے، ملک کے دشمن ، عوام کے بھی دشمن ہوتے ہیں لیکن یہاں ملک کے دشمنوں کو گھربلایا جاتا ہے، مودی بنگلہ دیش میں کھڑے ہوکر تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان توڑنے میں اس کا کردار تھالیکن نوازشریف اسے گلے لگاتا ہے،۔ انہوں نے کہا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، لیکن یہ پارا چنار میں پھر دھماکہ ہو گیا، معصوم بچے بھی نشانہ بنے قبائلی علاقوں میں واحد کرم ایجنسی ہے جس کے لوگ سب سے زیادہ محب وطن ہیں، انہوں نے پاکستان کے جھنڈے لگا رکھے ہیں، لیکن ان کا جیناحرام کر رکھا ہے، پولیٹکل انتظامیہ بھی انہیں ریاستی تشدد کا نشانہ بنارہی ہے اور دہشت گردبھی انہی پر حملے کررہے ہیں۔ راستے میں درجنوں چیک پوسٹیں ہیں پھر بھی دہشت گردوہاں پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ناکام ہو چکا ہے، ملک میں دہشتگردوں کیلئے کوئی روک ٹوک نہیں، وہ سرعام دندناتے پھر رہے ہیں۔


نظرات بینندگان
captcha