ترکی نے نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے مہاجرین پر لگائی جانے والی سفری پابندیوں کو 'جارحانہ' قرار دے دیا

IQNA

ترکی نے نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے مہاجرین پر لگائی جانے والی سفری پابندیوں کو 'جارحانہ' قرار دے دیا

16:37 - January 31, 2017
خبر کا کوڈ: 3502410
بین الاقوامی گروپ : ترک نائب وزیراعظم نے اس فیصلے کی وجہ اسلام فوبیا، مہاجرین کے خلاف پائے جانے والے جذبات اور دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ صنفی امتیاز برتنے کے مترادف قراد دیا۔
ترکی نے نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے مہاجرین پر لگائی جانے والی سفری پابندیوں کو 'جارحانہ' قرار دے دیا

ایکنا نیوز- ڈان نیوز- ترک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرطلمس نے ٹرمپ کو اسلامو فوبیا سے متاثر اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیا۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسے فیصلے کو تسلیم کرنا ممکن نہیں اور پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت 7 مسلمان ممالک جن میں ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں، کہ مسافروں کی امریکا میں 90 روز تک داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

اپنے عہدہ صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی ہفتے میں پالیسی میں کی گئی اس بڑی تبدیلی کی حمایت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کو 'بنیاد پرست اسلامی دہشت گردوں' سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔

ترک نائب وزیراعظم نے اس فیصلے کی وجہ اسلام فوبیا، مہاجرین کے خلاف پائے جانے والے جذبات اور دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ صنفی امتیاز برتنے کے مترادف قراد دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ اپنی پالیسی کو 'درست کرے'۔

نعمان قرطلمس کے مطابق یہ نہایت جارحانہ ہے کہ ایسا فیصلہ امریکا جیسے ملک میں کیا گیا، جسے مختلف مذاہب اور لسانی گروہوں کی قوم قرار دیا جاتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ درست نہیں یہ فیصلہ امتیاز کو ہوا دیتا ہے اور کسی بھی ملک کے شہریوں کو مکمل طور پر برا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انقرہ اب تک ٹرمپ کے اس اقدام کی واضح تنقید سے باز رہا تھا، تاہم ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کی جانب سے پناہ گزینوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر پر خبردار کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد اور باغیوں میں جاری جنگ کے دوران جان بچا کر نکلنے والے 27 لاکھ مہاجرین ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

انقرہ کو امریکی کی نئی انتظامیہ سے امید تھی کہ وہ براک اوباما کے دور میں متاثر ہونے والے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گی۔

نظرات بینندگان
captcha