ایکنا نیوز- شفقنا- انہوں نے دعوی کیا کہ داعش کی شاخ جو کہ خود کو اسلامک سٹیٹ آف خراسان گردانتی ہے پاکستان اور افغانستان کی جنگجو جماعتوں سے افراد قوت حاصل کر رہی ہے۔
جنرل نکولسن نے بتایا کہ اورکزئی ایجنسی کے ٹی ٹی پی ارکان نے بعد ازاں داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد ابتدائی جنگجو گروپ بنایا گیا، جو بعد ازاں افغانستان کے صوبے ننگرہار منتقل ہونے کے بعد وہاں کے 11 اضلاع تک پھیل گیا۔
جنرل نکولسن کے انکشافات نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان ایک بدنام دہشت گرد گروپ ہے اور اس کے داعش کے ساتھ گٹھ جوڑکا مطلب ہے کہ داعش پاکستان پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔
پاکستان نے اگرچہ آپریشن ضرب عضب کے باعث بہت سارے علاقوں سے دہشت گردوںکا مار بھگایا ہے تاہم ان خبروں کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ اب پاکستان کو داعش کے خلاف بھی اپنے ہتھیار تیار رکھنا ہوں گے۔