ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق نجی ٹی
وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف
کو این او سی جاری ہونے پر تشویش ہے، ایران نے پاکستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے،
ایران کسی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یمن کے معاملے
پر بہترین موقف اختیار کیا ہے۔دریں اثناء ایک اور انٹرویو میں ایرانی سفیر نے پاکستان
اور بھارت کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کی بناء4 پراپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے
مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کی ہے ، مہدی ہنر دوست نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور
استحکام کے لیے پاک بھارت کشیدگی کم کرکے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ثالث بننے کے لیے
تیار ہے ، ایرانی حکومت نے خطے میں امن کے لیے ہرطرح کے تعاون کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ثالثی کے حوالے سے تاحال پاکستان یا بھارت کی جانب سے انہیں باقاعدہ
طور پر درخواست نہیں کی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ نام نھاد سعودی الاینس میں شمولیت پر پاکستان میں بھی بہت سے لوگ اعتراض کررہے ہیں انکا کہنا ہے کہ اس سے فرقہ وارانہ مسایل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔