اسلامی اتحاد کی سربراہی: ایرانی سفیر کےردعمل پر پاکستان خاموش

IQNA

اسلامی اتحاد کی سربراہی: ایرانی سفیر کےردعمل پر پاکستان خاموش

11:14 - April 04, 2017
خبر کا کوڈ: 3502757
بین الاقوامی گروپ: اسلامی عسکری اتحاد کے لیے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کرنے پر ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کی جانب سے کیے گئے اظہار خیال کے جواب میں دفتر خارجہ کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آسکا

ایکنا نیوز- خیال رہے کہ ایرانی سفیر نے پاکستانی نیوز چینل سے گفتگو میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی کی اجازت دیئے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی سفیر کے اس ردعمل پر جب دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس  ذکریا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عام طور پر میڈیا رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم اس معاملے پر غور کریں گے‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران نفیس ذکریا نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ اسلامی عسکری اتحاد میں شمولیت مشرق وسطیٰ میں جاری چپلقش پر پاکستان کے حصہ نہ بننے کی پالیسی کو متاثر کرے گی۔

اپنی گذشتہ پریس بریفنگ میں انہوں نے واضح کیا تھا ’اس اتحاد کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے‘۔

خیال رہے چند روز قبل ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا تھا کہ برادر اسلامی ملک پاکستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کیے بغیر ہمارا موقف ہے کہ یہ معاملہ اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس بات کی توقع ہمیشہ سے کی جاسکتی تھی کہ سعودی عرب کے مخالف کی حیثیت سے ایران، ریاض کی جانب سے اس اتحادی فوج کے قیام پر مطمئن نہیں ہوگا۔

اس صورتحال میں اسلام آباد کا سابق آرمی چیف کو اس اتحاد کی سربراہی کے لیے بھیجے جانے کا فیصلہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں مسائل پیدا کرنے کو تیار ہے۔

نظرات بینندگان
captcha