
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ویب سایٹ «AboutIslam» کے مطابق سوئیزرلینڈ کے سیاست داں«ڈینیل اسٹریچ» کو سب مساجد کی مخالفت کے حوالے سے جانتے ہیں
مذکورہ سیاست داں نے مسلمانوں کے خلاف اقدامات میں کافی شہرت حاصل کرچکا تھا اور انکی کوششوں سے اسلام مخالف قوانین بھی بنائے گیے تھے۔
اسٹریچ مسلم مخالف سرگرمیوں کے دوران قرآن کا مطالعہ بھی کرتا تھا تاکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مواد اکٹھا کرتے مگر قرآن پڑھتے پڑھتے انہیں احساس ہوا کہ قرآن مجید کی تعلیمات انکے افکار کو متاثر کررہی ہیں۔
عیسایی خاندان میں جنم لینے والے اسلام مخالف سیاست داں نے بلاآخر سال ۲۰۰۵ میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور اپنی پارٹی کو شیطانی پارٹی کہہ کر الگ ہوگیے ۔
انکا کہنا تھا: میں انجیل پڑھتا تھا اور کلیسا جاتا مگر اب باقاعدگی سے قرآن پڑھتا ہوں اور نماز وقت پر ادا کرتا ہوں اور بلاشبہ قرآن مجید ہی اصل حقیقت کو پیش کرتا ہے۔
اسٹریچ کا کہنا ہے کہ اسلام اور قرآن جسطرح مختلف سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں عیسائیت میں اسطرح نہیں ۔
معروف سیاست دان«ڈینیل اسٹریچ» کی کوشش ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ایک جدید پارٹی کا قیام عمل میں لائے۔
مساجد کی تعمیر کے مخالف سیاست داں اس وقت خود ایک مسجد بنانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
3588621