چین ؛ ایغور کے مسلمانوں کی عبادات میں رکاوٹ/ نماز پڑھنے میں بھی مداخلت

IQNA

چین ؛ ایغور کے مسلمانوں کی عبادات میں رکاوٹ/ نماز پڑھنے میں بھی مداخلت

7:58 - May 13, 2017
خبر کا کوڈ: 3502971
بین الاقوامی گروپ: سوشل میڈیا سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت مسلمانوں کی عبادات میں بھی مداخلت کرتی ہے

چین مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ/ نماز پڑھنے میں بھی مداخلت


ایکنانیوز- مسلمانوں کے مسایل پر نظر رکھنے والے اداروں نے سوشل میڈیا کے زریعے سے ثابت کیا ہے کہ چینی حکومت مسلمانوں کو عبادت بھی چین سے نہیں کرنے دیتی۔

نیوز ویب سایٹ «ترکستان تٹیمز» کے مطابق چینی حکومت نے قانون پاس کیا ہے جسمیں تمام مسلمانوں کو یکساں نماز پڑھنے کی تاکید کی گیی ہے

اس قانون کے مطابق مسلمان نماز میں صرف سورہ «حمد»، «انشراح»، «تین»، «قدر»، «زلزال»، «عصر»، «قریش»، «ماعون»، «نصر» اور سورہ «فلق» کی نماز میں تلاوت کرسکتے ہیں۔


اس قانون کے مطابق تمام جمعوں کی نماز میں بھی صرف پانچ مسایل جو منظور شدہ ہیں انہیں موضوعات پرامام خطبہ دیں سکتے ہیں جبکہ نماز کی اذان اور اقامہ میں حکومت کی تعریف کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے!

نماز اور تسبیح پڑھنے کے بعد چینی حکومت کا شکریہ ادا کرنا بھی لازم قرار دیا ہے۔

ترکستان ٹایمز کے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ علما کو سختی سے پابند کی گیی ہے کہ وہ مسجدوں میں بیان کریں گے کہ وہ چین سے محبت کرتے ہیں اور کیمونسٹ قوانین اور پارٹی کے مفادات کے حامی ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ ایغور کے مسلمان جو مشرقی ترکستان میں گذشتہ نصف صدی سے آباد ہیں چینی تسلط کی وجہ سے شدید دباو کا شکار ہے

مسلم ناموں اور حجاب پر پابندی، داڑھی مونڈنے کا لازمی قرار دینا بھی دیگر مشکلات میں شامل ہیں۔

چینی حکومت ان علاقوں میں مسلم آبادی کا تناسب بگاڑنے پر تیزی سے کام کررہی ہے اور ہزاروں دیگر چینیوں کو یہاں آباد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بہت سے ایغور کے مسلمانو سرمایہ داروں کو مختلف الزامات میں گرفتار یا ملک بدر کیا جاچکا ہے اور متعدد لوگ اس دباو کی وجہ سے شہر اور ملک چھوڑ چکے ہیں ۔

3598591

نظرات بینندگان
captcha