
ایکنا نیوز- روزنامه «Daily Sabah» کے مطابق ایک جوان ماں نے رپورٹ درج کراتے ہویے کہا : میرے بیٹے کو کھیتوں میں کام کرتے ہویے گرفتار کیا گیا ہے
گذشتہ سال میانمار کی فوج نے مسلم نشنین علاقے کو بربریت کا نشانہ بنایا جسکے بعد پچھتّر ہزار افراد بنگلہ دیش کی سمت فرار کرگیے تھے
اقوام متحدہ کے نمایندوں کے مطابق خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلانے کے واقعات رونما ہویے ہیں۔
میانمار کی «آنگ سان سو چی» حکومت نے مسلمانوں پر تشدد کے الزامات کو رد کردیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو دورے سے مسلسل روک رہی ہے۔
کوششوں کے بعد میانمار کی حکومت نے میڈیا کی ٹیم کو دورے کی اجازت دی ہے اور انکو صرف محدود مقامات پر جانے کی اجازت ملی ہے۔
مسلم خواتین حکومتی مظالم کے خوف سے نام بتایے بغیر ہونے والے مظالم کی داستانیں اور رپورٹیں درج کرارہی ہیں۔
اس سے پہلے رایٹرز نے ٹیلی فون پر متعدد لوگوں کی شکایات سن کر رپورٹ شایع کرچکی ہے۔