
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «The Malay Mail» کے مطابق ملایشیاء میں چنیاہ نامی ھندو عورت نے چین کے ایک بودھ مت مذہب فرد سے شادی کی اور پھر اپنی نومسلم بہن کے تین بچوں کی پرورش کی ذمہ داری لی
چنیاه کا کہنا ہے: «میری بہن نے ایک پولیس اہلکار سے شادی کی اور اسلام کی طرف مایل ہوکر مسلمان ہوگیی مگر کچھ عرصے بعد طلاق لی اور بچوں کو میرے سپرد کیا».
انکا کہنا ہے کہ بچے اب بیس سے چوبیس سال کے درمیان ہیں اور انکی ماں اکثر بچوں کی خبر لیتی ہے
چنیاه کا کہنا ہے : میں اسلام کا خاص احترام کرتی ہوں اور اسی لیے بچوں کی اسلامی طرز پر میں نے تربیت کی اور نماز، روزہ اور تعلیم قرآن سے میں نے غفلت نہیں کی.
چنیاه گفت: ہمارے گھر میں ہندو، بودھ مت اور مسلمان تمام مذاہب موجود ہیں اور اسلامی کی خاص حاکمیت برقرار ہے اور میرا شوہر ہمیشہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
چوبیس سالہ نورهان محد نور کے اس بارے مین کہنا ہے : ہندو خالہ کے ساتھ مذہب کے فرق کے باوجود ہم محبت سے رہتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کے حوالے سے انہوں نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہیں ۔