
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «BuzzFeed» کے مطابق مینی سوٹا کے رکن پارلیمنٹ «ایل فرینکن» نے اسمبلی میں خطاب سے کہا : اسلامی مرکز پر حملہ کسی مذہب نہیں بلکہ امریکی عوام اور تمام مذاہب پر حملہ تھا
امریکن سینیٹر «ایمی کلوبوچر» نے خطاب کرتے ہوئے کہا : کسی کو امریکہ میں عبادت کرتے ہوئے نہیں ڈرنا چاہیے اور امید ہے سب ملکر وحدت سے رہیں گے
قابل ذکر ہے کہ پیر کےدن مسجد اورمرکز اسلامی دارالفاروق پر دستی بم پھینکا گیا تاہم اس سے جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے سے ثابت ہوا کہ امریکہ میں مساجد کو دھمکیاں صرف ڈرانا نہیں تھا بلکہ ان کو حقیقت میں سنگین خطرات درپیش ہیں۔
اجتماع میں یہودی اور عیسائی مذہبی رہنماوں نے بھی شرکت کی ۔
مینی سوٹا کے گورنر" مارک دیٹون" نے اسلامی مرکز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئےدارالفاروق مرکز کا دورہ بھی کیا۔
اس واقعے پر ٹرمپ انتظامیہ نے اب تک رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔