کوئٹہ میں چینی مبلغوں کا قتل: چین میں مسیحیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

IQNA

کوئٹہ میں چینی مبلغوں کا قتل: چین میں مسیحیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

19:41 - September 05, 2017
خبر کا کوڈ: 3503499
بین الاقوامی گروپ: چین کی حکومت نے ایسے چینی مبلغوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا جو بیرونِ ملک عیسائیت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں سے منسلک ہیں۔
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق رواں برس کوئٹہ سے اغوا کے بعد قتل ہونے والے چینی جوڑے کے واقعے نے بیجنگ کو کشمکش کی صورتحال سے دوچار کر دیا کیونکہ مقتولین بلوچستان کے دارالحکومت میں صرف چینی زبان سکھا نہیں رہے تھے بلکہ وہ عیسائیت کی تبلیغ میں بھی مصروف تھے جس میں عام طور پر چینی ملوث نہیں ہوتے۔ چند روز قبل برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چینی مبلغوں کے بیرونِ ملک مسائل میں گھرنے کی خبر پریشان کن تھی، لیکن اسی دوران بیجنگ کو بیرونِ ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ اس دوہری مشکل سے دوچار ہونے کے باوجود چینی حکومت نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے واقعے کے بعد ملک میں پہلے سے دباؤ کا شکار مسیحیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا۔ 
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چین میں عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے ایک امریکی ادارے کے عہدیدار بوب فو نے بتایا کہ چینی حکومت نے صوبہ زیجیانگ میں ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے 4 عیسائی مبلغوں کو گرفتار کیا جو بیرونِ ملک عیسائیت کی تبلیغ کے مشن سے وابستہ تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان افراد کو رہا کیا جا چکا ہے تاہم ان پر ٹیلی ویژن چینلز کو انٹرویو دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مذکورہ عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ شی جن پنگ کے صدر بننے کے بعد سے چین میں موجود 10 کروڑ مسیحیوں کو کڑی نگرانی کا سامنا ہے جبکہ پاکستان میں ہونے والے واقعے کے بعد سے چین میں عیسائیوں کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نے رواں برس 24 مئی کو دو چینی شہریوں 24 سالہ لی زنگ یانگ اور 26 سالہ خاتون مینگ لی سی کو اغوا کر لیا تھا بعد ازاں انہوں نے 8 جون کو چینی جوڑے کو قتل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
نظرات بینندگان
captcha