
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز ایجنسی کے مطابق سال ۱۹۸۳ سے یونیسکو میں ثقافتی ورثے میں شامل ہونے والی عمارت جو دنیا کے سات عجایبات میں بھی شمار کیا جاتا ہے مقامی حکومت کی سفارش پر اسکو ساحتی لسٹ سے نکال دیا گیا ہے
اترپردیش میں ٹوریسم ادارے کے سربراہ ریتا باهوگونا کی سفارش پر ۳۲ بتیس صفحات پر مشتمل ساحتی لسٹ تیار کیا گیا ہے جسمیں درجنوں ہندو اور بودھایی مقامات موجود ہیں مگر تاج محل کو لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے
ثقافتی آثار کے ماہر سهیل هاشمی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت اس وعدے پر کامیاب ہوئی ہے کہ وہ صرف ہندوں کے لیے کام کرے گی اور اسی تعصب کی وجہ سے تاج محل کو ساحتی لسٹ سے نکالا گیا ہے۔
تاج محل بھارت کے شہر آگرہ میں واقع ایک مقبرہ ہے۔ اس کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی ایرانی نژاد بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی۔
تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ 1983ء میں تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا۔ تاج محل کو بھارت کے اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے۔