
ایکنا نیوز- فاطمه محمدی ایرانی میں مقیم وہ خاتون مہاجر ہے جس نے کشمکش ، آہ و نالہ اور شوق و بیقراری کے بعد ویزا حاصل کرلیا ہے
جب انہیں کہا گیا کہ اب انکا کام ہوگیا ہے تو انہیں یقین نہیں آرہا تھا اور شوق کے آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے
اسکا کہنا تھا کہ انکا سات سالہ بچہ جو اکثر مسجد میں آذان دیتا ہے اس نے ایک پرچم خریدا ہے اور کہتا ہے کہ وہ زیارت امام حسین(ع) کی سمت جاتے ہوئے یہ پرچم لے جانا چاہتا ہے مگر اب ایسا مشکل ہے۔

ایکنا کی محترمہ محمدی سے انٹرویو کی پہلی فلم سوشل میڈیا پر اسقدر وایرل ہوئی کہ حکام نوٹس لینے پر مجبور ہوئے۔
ایکنا نیوز کی کوششیں بھی رایگاں نہ گییں اور وزارت خارجہ سمیت عراقی قونصل خانوں سے رابطوں نے کام کردکھایا
فاطمه محمدی کو ویزی ملنے کا اب تک یقین نہیں اور انکے آنسو مسلسل بہہ رہے ہیں۔
فاطمه محمدی کے مطابق عراقی قونصل خانوں کا مطالبہ تھا کہ دو ملین تومان خرچے کے علاوہ الیکٹرونک پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے اور اس حوالے سے ہم صرف معجزے کے زریعے ویزا حاصل کرسکتے ہیں
سوشل میڈیا پر محترمہ محمدی کی ویڈیو وایرل ہونے کے تین دن بعد ایرانی اعلی حکام نے عراقی قونصل خانوں سے رابطہ کیا اور مسلسل کوششوں سے اب مثبت جواب مل چکا ہے.
ایرانی پولیس حکام کے مطابق مشکل کا حل نکل چکا ہے اور اب ایران میں مقیم افغانی باشندے سادہ پاسپورٹ کے ساتھ بھی مذکورہ مراکز سے رابطہ کرکے ویزا حاصل کرسکتے ہیں
بہرحال دیگر سوشل میڈیا اور ایکنا نیوز کی کوششوں سے ایک اہم مشکل کا حل نکل آیا اور اب محترمہ محمدی اپنے بیٹے کے ساتھ چہل منانے کربلا جاسکتی ہے اور شاید بہت دیگر لوگوں کو بھی یہ موقع میسر آسکے کہ وہ اربعین کے لیے کربلا کا ویزا حاصل کریں۔
