
ایکنا نیوز- جرمنی میں ایرانی ثقافتی مرکز کے مطابق اپریل ۲۰۱۸ سے جرمن صوبے باواریا میں خواتین حجاب کے ساتھ عدالتوں میں کام نہیں کرسکتی ہیں۔
اس قانون کے مطابق خواتین وکلا اور قاضی حجاب کے ساتھ عدالت میں کام نہیں کرسکیں گی کیونکہ اس سے انکی بیطرفی پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
جرمن وزیر انصاف وینفرڈ باوس بِک نے اس قانون پر تحفظ کا اظھار کرتے ہوئے کہا: ابھی تک عدالتوں میں صلیب لٹکایے ہوئے ہیں اور اس پر تو کسی کو اعتراض نہیں۔
جرمن گرین پارٹی کے نمایندے اولریک گوٹہ نے اس بارے میں کہا کہ جو حجاب کو مشکل قرار دیتا ہے وہ صلیب کو نکالنے پر اعتراض کیوں کرتا ہے؟
ہال ہی میں میسباخ میں عدالت میں ایک افغانی کے مقدمے میں صلیب لٹکا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔
اس حکم اور قانون پر ملے جلے اعتراضات اور حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔/