
ایکنا نیوز سے گفتگو میں طلبا قرآنی مقابلوں کے جج سمیح خالد احمد عثامنه نے مقابلوں کے میعار کو سراہتے ہوئے کہا : میں ۶۴ بین الاقوامی مقابلوں میں جج رہ چکا ہوں مگر اس مقابلے میں بعض خصوصیات قابل تعریف ہیں
انکا کہنا تھا: ایک ہی ہال میں تمام ججز اور امیدواروں کی دوستانہ محفل ،گفتگو اور پیار و محبت کا ماحول قابل تعریف ہے۔
استاد خالد عثامنه نے مزید کہا کہ ہر امیدوار تلاوت کے بعد جج سے گفتگو کرتے اور ججز اہم نکات کو موقع پر وضاحت سے پیش کرتے جو بہترین طریقہ کار ہے۔
اردن کے جج نے طلبا قرآنی مقابلوں کے بہترین دوستانہ ماحول کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا : میرے لیے تمام مقابلوں میں شرکت کے بعد اس طرز کے مقابلے نے کافی متاثر کیا۔
عثامنه نے مزید کہا : ججز کی بہترین رہنمائی سے طلبا نے ایک ہی بار غلطی کو درست کیا اور دوبارہ غلطی کی دہرائی نہیں کی جاتی۔
طلبا مقابلے کے جج نے مقابلوں میں مناسب اخراجات کی بھی تعریف کی اور کہا کہ قرآن ہمیں فضول خرچی سے روکتا ہے اور اس کا عملی مشاہدہ اس مقابلے میں دیکھنے کو ملا۔
استاد عثامنه نے مقابلوں کو نشر کرنے کا فیصلہ قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مقابلہ ایک ورکشاپ کی مانند تھا جس کو دیکھنے سے قرآء کو سیکھنے میں مدد ملے گی۔
استاد عثامنه نے مزید کہا کہ قرآن پر عمل ہی میں مسلم دنیا کی مشکلات کا حل مل سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جہالت ، پس ماندگی اور مشکلات کی اہم وجہ قرآن سے دوری ہے اور اس پر عمل کیے بغیر مسایل حل نہیں ہوسکتا ۔/