
ایکنا نیوز سے گفتگو کرتے ہویے عراق میں آستانہ علوی کی قرآنی معلم زمن عبدالکاظم نے کہا: میرا مضمون فزکس ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے حفظ قرآن مکمل کیا اور اس وقت روضہ علوی میں قرآن پڑھانے میں مصروف ہوں۔
انکا کہنا تھا: دوسال کی مدت میں قرآن حفظ کرنے میں کامیابی ملی اور پھر مقابلوں میں شرکت کے بعد مجھے ایران کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے منتخب کیا گیا۔
زمن عبدالکاظم نے کہا کہ نجف میں «الانوار» قرآنی مرکز سے قرآنی تعلیم حاصل کی اور استاد حیدر القبانچی، کوثر جلیل اور جلال طباطبائی جیسے استادوں سے کسب فیض کیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ میں خاندان میں پہلی حافظہ قرآن ہوں البتہ مجھے دیکھر کر میرا بھتیجا بھی حفظ قرآن پر اس وقت کام کررہا ہے۔
زمن عبدالکاظم نے مصری قاری محمد صدیق منشاوی کو پسندیدہ قاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی متواضعانہ اور درد بھری آواز کے ساتھ تلاوت سے قرآن کا دل پر اثر ہوتا ہے اور میں انکی تلاوت سے کافی متاثر ہوں۔
آستانہ علوی کی استاد نے اسلامی ممالک کے درمیان قرآنی منسٹری کے قیام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسلامی ممالک میں قابل تعریف کام نہیں ہورہا ہے جیسے کہ رسول گرامی اسلام نے تاکید فرمائی ہے۔
آن لاین قرآن اور خواتین
زمن عبدالکاظم نے آن لاین قرآن کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین عام طور پر عمومی کلاسز میں شرکت نہیں کرسکتی لہذا آن لاین کی سہولت سے خواتین استفادہ کرسکتی ہیں
انکا کہنا تھا کہ عراق میں اس سہولت سے فایدہ اٹھایا جارہا ہے اور گذشتہ سال رمضان المبارک میں مام حسن مجتبی(ع) کی ولادت کی مناسبت سے آستانہ علوی کی جانب سے واٹس اپ کے زریعے خصوصی کلاسز کا اہتمام کیا گیا تھا۔
عراقی قاریہ نے ایران میں مقابلوں میں شرکت پر خوشی کا اظھار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام مہمان نواز اور پرخلوص ہے اور امید ہے کہ دوسری اقوام بھی انکی قرآنی خدمات کی تقلید کریں گی۔/