جرمن وزارت خارجہ اور بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد

IQNA

جرمن وزارت خارجہ اور بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد

8:41 - June 26, 2018
خبر کا کوڈ: 3504749
بین الاقوامی گروپ: برلن میں «امن میں مذاہب کا کردار» کانفرنس میں مختلف ممالک کے مذہبی نمایندے شریک تھے

جرمن وزارت خارجہ اور بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد

ایکنا نیوز- جرمنی میں ایرانی ثقافتی مرکز کے مطابق برلن میں «امن میں مذاہب کا کردار» کے عنوان سے عالمی بین المذاہب کانفرنس منعقد کی گیی۔

جرمن وزیر خارجہ  هایکو ماس کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد مختلف مذاہب کو امن میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

 

قنطره کی رپورٹ کے مطابق هایکو ماس کا خیال ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی معاشرے کی بقاء کے لیے اہم ہے اور یہ مسلسل دوسری بین المذاہب کانفرنس ہے جو جرمن وزارت خارجہ کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔

 

مذاہب اور جرمن وزراء

 

هایکو ماس جرمنی کے تیسرے وزیر خارجہ ہے جبکہ اس سے پہلے فرانک والٹراسٹاین سال ۲۰۱۵ اور زیگمار گیبریل سال ۲۰۱۷ میں کی زیر نگرانی ایسی کانفرنسز منعقد ہوچکی ہیں۔

 

گیبریل نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا تھا :« کم از کم میں نے کسی مذہب کو نہیں دیکھا ہے جسمیں امن پر تاکید نہ کی گیی ہو» انکا کہنا تھا کہ اس کے باوجود مذہب کے نام پر فسادات افسوسناک ہے۔

 

موجود کانفرنس سے خطاب میں جرمن وزیر خارجہ هایکو اور فن لینڈ کی وزارت خارجہ کی کاوش شامل تھی . فن لینڈ کے وزیرخارجہ  تیمو سوئینی نے خطاب میں کہا کہ ماضی کے تجربوں نے ثابت کیا ہے کہ بین المذاہب کاوش امن کے لیے نہایت اہم ہے ۔

 

مشرقی ایشیاء پر توجہ

 

اس سال کانفرنس میں مشرقی ایشاء پر فوکس کرنا تھا اور اسی لیے ۷۰ مهمان انڈونیشیاء،ملایشیاء،پاکستان،برما،میانمار،جنوبی کوریا،جاپان اور چین سے بلایے گیے تھے۔

کانفرنس میں اسلام، مسیحیت و یهودیت، بودیسم، هندوئیسم،  شینتو، تائوئیسم اور زرتشت مکاتیب کے دانشور شریک تھے۔

 

کہا جاتا ہے کہ برما میں مسلم اقلیتی اقوام پر ظلم بین المذاہب امن پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جاتا ہے.

 

جرمن وزارت خارجہ کے مطابق علاقائی سطح پر بین المذاہب نیٹ ورک کے قیام سے امن کے قیام میں تعاون مل سکتا ہے۔/

3725381

نظرات بینندگان
captcha