IQNA

17:48 - July 07, 2018
خبر کا کوڈ: 3504795
بین الاقوامی گروپ:مہاتیر محمد نے واضح کیا ہے کہ بھارت میں مبینہ طور پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور نفرت انگیز تقاریر پر مطلوب معروف بھارتی سلفی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو واپس بھارت نہیں بھیجا جائے گا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز رپورٹ کے مطابق معروف وہابی مبلغ ذاکر نائیک 2016 میں بھارت چھوڑ کر مسلمان ملک ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہیں مستقل رہائش کی اجازت دے دی گئی تھی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنوری میں نئی دہلی کی جانب سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کا معاہدہ ہے۔

اس حوالے سے کوالالمپور کے باہر انتظامی دارالحکومت پتراجایا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ’ہم ذاکر نائیک کو ملک بدر نہیں کریں گے کیونکہ انہیں یہاں مستقل رہائشی ہونے کا درجہ حاصل ہے، اس کے علاوہ انہوں نے ابھی تک ان سے منسوب ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا‘۔

رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے ذاکر نائیک کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے نوجوانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے پر بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب 52 سالہ ذاکر نائیک نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کو ’مکمل طور پر من گھڑت اور جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ خود کو’ غیر منصفانہ کارروائی سے محفوظ‘ نہیں سمجھتے ان کا بھارت جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

واضح رہے کہ 2010 میں بھارتی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے ایسا تبصرہ کیا گیا تھا جس سے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایک ’ناقبلِ قبول رویہ‘ ظاہر ہوا تھا، جس کے بعد انہیں برطانیہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: