
ایکنا نیوز- گفتگو کا مقصد انجمنوں کے تعاون سے مسلم امور کو منظم کرنا ہے
«راینلینڈ-فالٹس» (به آلمانیRheinland-Pfalz) میں اس سے پہلے مذکورہ امور پر کافی پیشرفت حاصل ہوئی تھی تاہم ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا۔
برلن میں ایرانی ثقافتی مرکز نے روزنامہ «ولٹ»(Welt کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی انجمنوں سے دوبارہ ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے اور صوبے کے وزیر تعلیم کنرڈ وولف نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک معاہدے کی تیاری کی جارہی ہے۔
دو مستند رپورٹ شایع ہونے کے بعد جسمیں کہا گیا ہے کہ اسلامی انجمنیں جرمن معاشرے میں ضم ہوسکتی ہے کے بعد مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. وولف کا کہنا تھا:« مذاکرات کا مقصد جرمن مسلمانوں کو معاشرے سے ہم آہنگ کرانا ہے.»
ترک الاینس ڈیٹیب سے کہا گیا ہے کہ اگر ہو چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں شامل ہو تو انہیں ترکی سے لاتعلقی اور خودمختاری ثابت کرنا ہوگی۔
اس وقت «راینلینڈ-فالٹس» صوبے میں اسلامی تنظیم «میلی گوروش»(Milli Görüs) سے وابستہ تین انجمنوں سے بات چیت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وولف کے مطابق جرمنی کے بنیادی آیین کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔/