
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «هشدار» کے مطابق عمومی اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ نے جنرل علی پور کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انکی گرفتاری سے قومی تعصبات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
پارلیمنٹ کے نمایندوں کا کہنا تھا: جنرل علی پور نے دہشت گردوں کے خلاف حکومتی خاموشی کے مقابلے میں قیام کیا تاکہ عوام کو دہشت گردی سے بچایا جاسکے۔
غزنی صوبے کے رکن پارلیمنٹ محمد علی اخلاقی کا کہنا تھا: عوام کی حکومت سے ناراضگی بڑھتی جارہی ہے جبکہ حکومت صرف امن کے دعووں تک محدود رہ گیی ہے اور اسی لیے جنرل علی پور نے عوام کے دفاع کے لیے اسلحہ اٹھایا اور یہ تو حکومت کے لیے ایک رحمت ہے ۔
ایک اور رکن پارلیمنٹ محمد عارف رحمانی کا کہنا تھا: علیپور نے اس وقت قیام کیا جب حکومت مکمل طور پر دہشت گردوں کے خلاف خاموش ہوگیی تھی اور انہوں نے عوام کے قتل عام روکنے کے لیے اسلحہ اٹھایا ہے۔
رکن پارلیمنٹ مولوی موحد کا کہنا تھا کہ حکومت نا اہل ہوگیی ہے اور حالات کی خرابی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ دیگر اراکین نے بھی علی پور کی گرفتاری اور مظاہرین پر فایرنگ کی مذمت کرتے ہوئے ہزارہ کمانڈر کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
جنرل علی پور کی گرفتاری کے خلاف مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، دوسری طرف نیٹو ترجمان نے ان الزمات کی تردید کی ہے کہ گرفتاری میں نیٹو فورس ملوث ہے۔
جنرل کول ڈیو باٹلر نے ٹویٹ کیا ہے کہ جنرل علی پور عرف شمشیر کی گرفتاری میں امریکن یا نیٹو فورسز کا ہاتھ نہیں۔
بعض دیگر زرایع کا کہنا ہے کہ جنرل علی پور کو رہا کردیا گیا ہے۔
علیپور جو کمانڈر شمشیر کے نام سے جانا جاتا ہے انہوں نے میدان وردک میں ہزارہ قتل عام اور حکومتی خاموشی کے خلاف تین سال پہلے «عوامی فورس» بنا کر قیام کیا۔/