پکن: اویغور مسلمان چین کے لیے خطرہ ہے۔

IQNA

پکن: اویغور مسلمان چین کے لیے خطرہ ہے۔

9:16 - December 22, 2018
خبر کا کوڈ: 3505511
بین الاقوامی گروپ ــ چینی زبان سے عدم آشنائی اویغور مسلمانوں کی گرفتاری کی اہم قرار دی گیی ہے اور چینی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان افراد کی جانب سے دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے۔

ایکنا نیوز- «اناطولیہ» نیوز کے مطابق انڈونیشیاء کی جانب سے اویغور مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے وضاحت طلب کرنے پر چینی حکومت نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی زبان سے عدم آشنائی، دہشت گردی کی جانب مایل ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔

 

چینی حکام کے مطابق اویغور مسلمانوں کو زبان سیکھانے اور تربیت کے لیے ان مراکز میں جبرا منتقل کیا جاتا ہے تاکہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹا جاسکے۔

 قابل ذکر ہے کہ جکارتہ میں چینی سفیر کو طلب کرکے انڈونیشیاء نے مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے تحفظات کا اظھار کیا تھا۔

 

انڈونیشیاء میں مذہبی امور کے سربراہ لقمان حکیم صیف‌الدین نے بھی سینکیانگ میں مسلمانوں پر پابندیوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظھار کیا ہے۔

عالمی رد عمل

 

جینیوا میں اگست کو منعقد ہونے والی انسانی حقوق کانفرنس میں متعدد تنظیموں نے چینی مسلمانوں پر پابندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ سیاسی بہانوں کے ساتھ تین ملین سے زاید مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے۔

 

انسانی حقوق واچ تنظیم  حکومتی ایماء پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں پر متعدد بار تحفظات کا اظھار کرکے سلسلہ روکنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

 

3774289

 

نظرات بینندگان
captcha