IQNA

8:07 - January 07, 2019
خبر کا کوڈ: 3505585
بین الاقوامی گروپ- فرانس کی حکومت دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر عربی زبان کو مساجد تک محدود کرنا چاہتی ہے۔

ایکنا نیوز- نیویورک‌ٹایمز کے مطابق نو سالہ «حبیبه حاتم» گذشتہ روز حسب معمول ناشتے کے بعد شمالی پیرس کی مسجد کی جانب عربی کلاس کے لیے جاتی ہے۔

 

عربی کلاس کی دیوار پر وضو سیکھنے کے مختلف پینٹنگز کے ہمراہ تتلی اور دیگر خوبصورت تصاویر بنایی گیی ہیں جہاں انکے عربی نام بھی درج شدہ ہیں۔

 

حبیبه کے دادا اور دادی سال ۱۹۶۰ کو تیونس سے فرانس ہجرت کرگیے تھے اور انکا خیال تھا کہ انکو اپنی مادری زبان اور ثقافت سے رابطہ رکھنا چاہیے مگر سرکاری سطح پر عربی سیکھنے کی گنجائش نہ تھی۔

 

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فرانس میں مساجد اور مراکز میں عربی زبان سیکھانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اب فرانس کی حکومت دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر عربی مراکز کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور ستمبر میں اعلان کیا گیا کہ اسلامی کورس سے ہٹ کر صرف زبان کی حد تک ایک نصاب تیار کیا جایے گا ۔

 

فرنچ وزیر تعلیم ژان میشل بلانک (Jean-Michel Blanquer  کا دعوی ہے کہ عربی زبان کی تقویت کے لیے مذکورہ اقدام کیا جارہا ہے۔

 

فیصلے کے مطابق عربی زبان کو سرکاری کنٹرول کے ساتھ ادبی کورس بنایا جائے گا جبکہ اس زبان کے ساتھ روسی اور چینی زبان پر بھی توجہ دی جائے گی۔

 

سال ۲۰۱۷- ۲۰۱۸ میں صرف دو فیصد طلبا نے سرکاری اسکولوں میں عربی کلاسوں میں شرکت کی۔/

3778962

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: