
ایکنا نیوز- نیویارک ٹایمز کے مطابق معروف کمپنی کی جانب سے مسلمان خواتین کے لیے باحجاب لباس پر فرانس میں نیا جھگڑا شروع ہوچکا ہے اور مسلم و سیکولر طبقے میں بحث کا سلسلہ چل نکلا ہے۔
اسپورٹس کے لیے معروف کمپنی ڈکاتلون Decathlon کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ گردن تک پوشیدہ لباس مسلمان خواتین کے لیے بنائے جارہے ہیں۔
اس کمپنی کی جانب سے مذکورہ لباس مراکش کی فروخت مراکش میں شروع ہوچکی ہے اور جلد فرانس میں فروخت کا سلسلہ شروع ہوگا لیکن اس پر میڈیا اور سیاست دانوں میں ایک بحث شروع ہوچکا ہے اور حتی اس کمپنی پر پابندی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
آرور برژ Aurore Bergé)، میکرون کی حامی سیاست دان کا کہنا ہے کہ میں بعنوان ایک عورت فرانس کی اقدار کو نظر انداز کرنے پر مزید اس کمپنی سے کوئی خریداری نہیں کرونگی۔
مذکورہ کمپنی کا کہنا ہے کہ انکا مقصد اسپورٹس کا فروغ ہے کچھ اور نہیں، ٹویٹر پر کمنٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف ایک مناسب ڈریس تیار کررہی ہے۔
اس سے پہلے نایک Nike کمپنی کی جانب سے بھی اس طرح کے لباس سامنے آچکا ہے تاہم اس پر اتنے اعتراضات نہیں کیے گیے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ فرنچ کمپنی نہیں اس وجہ سے اعتراض نہیں ہوا۔
کچھ فرنچ سیاست داں اس لباس کی حمایت کرتے ہیں، اورلین تاشه (Aurélien Taché جو میکرون پارٹی میں شامل ہے انکا کہنا ہے کہ مسلمان خواتین پر بیجا سختی نہ کرنے سے فرانس کا امیج بہتر ہوگا۔/