ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ محکمہ اوقاف نے ان مساجد کو مدارس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
ادھر ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن مساجد و مدارس کا انتظام سنبھالا گیا ان میں مسجد قبا، مدرسہ خالد بن ولید، مدرسہ ضیاالقرآن، مدنی مسجد اور علی اصغر مسجد شامل ہیں، یہ تمام مساجد و مدارس وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔
اسی طرح محکمہ اوقاف نے مساجد کے نئے امام اور خطیب مقرر کردیے جبکہ مولانا یاسین کو مسجد قبا سے ہٹا کر مولانا عبدالحفیظ کو خطیب مقرر کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ مدنی مسجد سے مولانا اظہر عباسی کو ہٹاکر مولانا عمر فاروق کو خطیب مقرر کردیا گیا جبکہ مسجد علی اصغر سے خطیب یارمحمد کی جگہ قاری محمد صدیق کو مقرر کیا گیا ہے۔
ان تمام مساجد ومدارس کو نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کے سلسلے میں حکومتی تحویل میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی احکامات کی روشنی میں راولپنڈی میں کالعدم جماعت الدعوۃ کی 2 ڈسپنسریز، ہسپتال اور مدرسے کو سیل کردیا۔
ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں جماعت الدعوۃ کے چاکرہ اور اڈیالہ روڈ پر قائم ابوبکر ہسپتال، مدرسہ اور 2 فلاحی ڈسپنسریوں کو سیل کردیا گیا ہے، تاہم کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی تنصیبات کی مکمل فہرست تیار کرلی گی ہے جہاں کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسی تناظر میں گزشتہ روز سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 افراد کو ’اصلاحی حراست‘ میں لے لیا تھا۔