ایکنا نیوز- ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے وزیر صحت نے کہا کہ جاں بحق فلسطینیوں میں 37 سالہ خاتون اور ان کی 14 ماہ کی بیٹی گھر پر کیے گئے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس اور ہسپتال کا کہنا ہے کہ غزہ کے قریبی شہر عسکلان کے قریب رات گئے ہونے والے راکٹ حملے میں ایک 58 سالہ اسرائیلی شخص ہلاک ہوا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے حکام کی جانب سے اسرائیلی حملوں میں حاملہ خاتون اور اس کی بچی کے ہلاکت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں کا نشانہ بنیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان رونین مانیلس نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ ’ غزہ میں جس ماں اور بچی کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہ حماس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں‘۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز سے اب تک غزہ کی جانب سے اسرائیل پر 450 راکٹ داغے گئے جس کے بعد ان کی جانب سے جوابی کارروائی بھی جاری ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ کی پٹی پر مزید حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ’ میں نے آج صبح (5 مئی کو) فوج کو غزہ کے علاقے میں مزید حملے جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور انہیں غزہ پٹی کے گرد ٹینکوں جنگی ساز و سامان اور نفری بھیجنے کا حکم دیا ہے‘۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سے اب تک فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے 450 راکٹ داغے گئے جس کے رد عمل میں اسرائیل نے فضائی اور ٹینک حملے کیے۔