IQNA

9:03 - September 01, 2019
خبر کا کوڈ: 3506571
بین الاقوامی گروپ: محرم الحرام کی آمد سے قبل حضرت آیت اللہ سیستانی نے شیعہ علما پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی تقاریر اور گفتگو سے گریز کریں جس سے مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو۔

ایکنانیوز- شفقنا کے مطابق محرم الحرام کا مقدس مہینہ یکم ستمبر سے شروع ہوگیا ہے اور دنیا بھر میں یوم عاشور نواسہ رسول صلی اللہ و الیہ والہ وسلم حضرت امام حسین ( علیہ السلام ) سے بھر پور عقیدت اور مذہبی جوش و خروش ے منایا جائے گا۔

حضرت آیت اللہ سیستانی کے خطبے کے اقباسات:

شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔

محرم کی آمد ہے اور نواسہ رسول رسول صلی اللہ و الیہ والہ وسلم حضرت امام حسین ( علیہ السلام ) ، ان کے اہل بیت اور ساتھیوں کی شہادت امت مسلمہ کو ان کی لازوال قربانیوں‌ کی یاد دلاتی ہے۔

اگرچہ وہ اللہ کے آخری نبی رسول صلی اللہ و الیہ والہ وسلم کے نواسے، ان کے اور قرآن کریم کے وارث تھے مگر اللہ نے انہیں اس عظیم مقصد کے لیے چنا کیونکہ وہ جبر اور ظلم کے سامنے سر جھکانے والے نہ تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے اہل بیت اور ساتھیوں سمیت شہادت کو گلے لگایا۔

اللہ کی راہ میں ان کی اور ان کے اہل بیت کی شہادت ایک ایسی عظیم الشان قربانی ہے جس کی نظیر نہ کبھی تھی نہ رہتی دنیا تک ملے گی۔

قرآن کریم میں‌ارشاد ہے کہ ” بے شک ہم نے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور عدل کی ترازو دی تا کہ لوگ انصاف پر قائم رہ سکیں ( الحدید : 25 )

یہ تمام اماموں کی نصیحت ہے جب انہوں نے اپنے وفادار ساتھیوں کو سوگ منانے کا کہا تا کہ لوگ نواسہ رسول ﷺ پر ہونے والے مظالم کو یاد رکھیں‌اور ان سے سبق سیکھیں۔ تمام مومنین کو اماموں کی نصیحت کے مطابق دل کی گہرائیوں اور نواسہ رسول ﷺ کے ساتھ یک جہتی کے طور پر تمام تر مجالس میں‌ شریک ہونا چاہیے۔

یقینا تمام مبلغوں کو ان مصائب کا ذکر کرنا چاہیے جو اہل بیت ( علیہ السلام ) پر بیتے تا کہ ان کا ذکر تا قیامت زندہ رہے۔ بے شک اہل بیت ہی سوگ کا آغاز ہیں۔

آپ کی تقاریر ہی مومنین کے دلوں کو راحت پہنچا سکتی ہیں اور ان کو اچھائی ، راست بازی اور حق پر کھڑے رہنے کا درس دے سکتی ہیں۔ یہ تمام مسلم سکالرز کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ ان کے فرائض کی طرف دلا سکیں اور ان کو بتا سکیں کہ کس طرح اہل بیت ( علیہ السلام ) نے اسلام اور اس امت کے لیے ایک بہترین قیادت کا فرض نبھاتے ہوئے غاصب کے سامنے سر نہ جھکایا اور اس کے سامنے ڈٹ گئے۔

ان کی بے مثال قربانی اور عظیم قیادت کا ذکر ایک قابل تکریم روایت ہے جس کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے ۔

اسلامی سکالرز، مبلغین اور مداح سرائی کرنے والوں کے لیے چند ضروری ہدایت

1۔ اپنی تقاریر میں‌ قرآن کریم کے پیغام کو عام کریں جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب میں حق اور باطل کے درمیان فرق بتایا۔ اللہ پاک نے اپنی کتاب کو لوگوں کے لیے ہدایت ، روشنی اور بصیرت کا ذریعہ بنا کر بھیجا ۔ یہ ایک مبارک ذکر اور دانائی وحکمت سے بھر پور کتاب ہے۔ نواسہ رسول ﷺنے اللہ کے حکم اور قرآن کریم کی تعلیمات کی پیروری کرتے ہوئے ہی ایک غاصب اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اس لیے تمام مبلغین کو یہ نکتہ اپنی تقاریر میں‌ شامل کرنا چاہیے۔
2۔ آپ کی تقاریر درست اصولوں، مضبوط منطق اور آفاقی جذبوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ تقاریر عام آدمی کی فہم کے مطابق ہو تاکہ وہ قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ کی روایات کو باآسانی سمجھ سکیں‌اور تمام شکوک شہبات کو رفع کر سکیں۔
ایک مبلغ اپنے سامنے قرآن کریم کی وہ منطق سامنے رکھے جس کے مطابق اللہ پاک نے اس کائنات کو کھول کر بیان کر دیا یا ایسے منطقی دلائل دیں جس سے نبی اکرم ﷺ کی راست گوئی پر مزید روشنی پڑ سکے۔ ایک مبلغ اپنے بیان میں روز قیامت کی حقانیت کو شامل کرے کہ یقینا اس دن ہر آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھا جائے گا اور وہ اپنی اچھائیوں اور برائیوں‌کا صلہ پا لے گا۔
علما کو قرآن کریم، احادیث ، اہل بیت علیہ السلام ) اور اماموں کے اقوال کو بطور مثال پیش کرنا چاہیے۔ نہج البلاغہ کی کتاب سے امام علی ابن طالب ( علیہ السلام ) کے فرامین کے علاوہ امام علی ابن حسین ( علیہ السلام ) کی دعا جو کتاب صحیفہ سجادیہ میں شامل ہے، پیش کرنے کے لیے بہترین مثالیں ہیں۔
سکالرز اور مبلغین کو ان ربانی اور اخلاقی اقدار کی وضاحت کرنی چاہیے جن کا حکم نبی اکرم ﷺ نے اور اہل بیت ( علیہ السلام ) نے دیا۔ مومنین کو ان اقدار کی یاد دلانا بہت ضروری ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ اور اہل بیت ( علیہ السلام ) کو بہت عزیز تھیں جیسے کہ انصاف، راست بازی، دیانت داری، عقلیت ، حکمت اور اخلاقیات:۔ اور انہوں نے انہی اقدار کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ شعرا کو حضوراکرم ﷺ اور اہل بیت ( علیہ السلام ) کی مداح میں شاعری کرنی چاہیے اور لوگوں کو ان کے بتائے ہوئے رستے پر چلنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ مبلغین کو اہل بیت ( علیہ السلام ) کی تعلیمات کو دہرانا چاہیے تاکہ لوگ اپنے مذہبی فرائض اور اخلاقی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہو سکیں جیسا کہ امام جعفر (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے شعیان ! ہمارا زیور بنو نا کہ شرمندگی اور نفرت کا باعث ، لوگوں سے احسن طریقے سے بات کرو اور لغو اور فضول بات چیت سے خبردار رہو۔
تمام مقررین اپنی تقاریر میں‌ایسا تاثر ہر گز نہ دیں‌جو مختلف مکتب فکر کے مابین اختلاف اور دشمنی کا عنصر پیدا کرے بلکہ وہ ایسے الفاظ کا چناو کریں جو مسلمانوں کے مابین ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا کرے۔ چونکہ ملسمانوں‌کے سبھی مکتب فکر اللہ کی واحدانیت اور رسول اکرم ﷺ کی نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اس لیے
مقررین ہر گز ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں جس سے ان کی دل آزاری ہو اور تفرقے کا عنصر پیدا ہو۔ اس کے علاوہ مبلغین اپنے سامعین کو دوسرے مکتب فکر کے مذہبی اجتماعات اور ان کے جنازوں‌میں‌شریک ہوں کیونکہ یہی نبی آخرالزماں‌ﷺ اور ان کے اہل بیت (علیہ السلام ) کی روایت ہے۔ جو بھی ان روایات سے انحراف کرتا ہے یقینا بڑا خطا کار ہے۔
مقررین کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو انتباہ کریں کہ ایسے مذہبی معاملات جن کے بارے میں انہیں درست اور مکمل معلومات نہیں ہیں ان پر بات کرنے سے گریز کریں اور نہ ہی ایسے لوگوں کی باتوں پر یقین کریں جو خود کو اسلامی تعلیمات پر کامل عبور رکھنے والا سمجھتے ہیں۔ ایک مبلغ جس موضوع پر بات کر رہا ہو اس کے بارے میں‌اسے مکمل اور درست علم ہونا چاہیے اس کے علاوہ کو دنیا میں‌ہونے والے حالیہ واقعات، خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے تاہم اگر اسے اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں تو ان پر بات نہ کرے۔
اگر ایک مقرر یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے واعظ اور نصیحت کو سنیں تو اپنے اعمال اور رویوں پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ اسے چاہیے کہ وہ تمام تر مذہبی مسائل اور امور کو بغیر کسی منافقت کے دیانت داری سے بیان کرے اسی طرح وہ اپنے سامعین کو متاثر کر سکتا ہے۔
تمام مبلغین اور مقررین کو چاہیے کہ وہ دنیا بھر میں‌ہونے والے ماتمی اجتماعات کا بغور جائزہ لیں کہ وہ کس طرح سادگی اور دوستانہ انداز میں‌منائے جاتے ہیں اوران کا موضوع گفتگو کس قدر سلیس اور جامع ہوتا ہے۔
اے رب ذوالجلال ہماری اس عبادت کو اپنی بارگاہ میں‌قبول و منظور فرما بے شک تو تمام لوگوں کی حاجات کو سنتا ہے اور ہر چیز سے واقف ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: