IQNA

8:23 - December 11, 2019
خبر کا کوڈ: 3506958
بین الاقوامی گروپ- خصوصی حیثیت کے خاتمے کا چار مہینہ ہوا اور اب تک یہاں کے مسلمان مسجد نہیں جاسکے ہیں۔

ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی الجزیره کے مطابق پانچ گست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا اور ان پر شدید پابندیاں لگائی گیی۔

 

پابندیوں میں ہر طرح کے اجتماع کے علاوہ مساجد کے دروازے بھی ان پر بند کردیے گیے اور سرینگر میں مرکزی نماز جمعہ کا سلسلہ بھی روک دیا گیا جہاں ہزاروں لوگ نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔

سترہ جمعوں سے نماز کی بندش کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

 

مسجد کے قریب رہنے والے «خالد بشیر گورا» کا کہنا ہے: ہر قسم کے اجتماع کو یہ خطرہ قرار دیتا ہے اور معمولی حالات کی خرابی پر مسجد مہینوں بند کردیا جاتا ہے۔

 

«سید احمد سید نقشبندی» جو سال ۱۹۶۳ سے جامع مسجد سرینگر میں امام ہے کا کہنا تھا: ہندوستان میں مذہبی عقاید پر عمل کو قانونی حق تسلیم کیا گیا ہے مگر سرینگر میں اس پر کوئی عمل نہیں ہورہا۔

 

۸۰ ساله جو پانچ کیلومیٹر دور فاصلے پر ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی پر مجبور ہے کا کہنا تھا کہ جامع مسجد سرینگر میں نماز کی ادائیگی کا ایک خاص روحانی مزہ ہے جو کہیں اور حاصل نہیں ہوسکتا۔

 

جنوبی کشمیر کے علاقے اننتناگ کے علاقے کی مسجد «بیت المکرم» پر بھی یہی حالت برقرار ہے۔ یہاں بزرگ ہستیوں کے مزارات جو عام و خاص کے لیے زیارت گاہ شمار کیے جاتے ہیں کڑی نگرانی کے زیر اثر ہیں اور باہر سے لوگ یہاں اب نہیں آسکتے۔

 

ان چار مہینوں میں  ۵ هزار کشمیری عوام اور علما گرفتار کرلیے گیے ہیں. علامه «آقا سید اعجاز رضوی» گرفتار علما میں شامل ہے جنکو ستائیس اگست کو گرفتار کیا گیا تھا. ان پر مسجد بابا مزار میں حکومت مخالف خطبے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔/

3863164

نام:
ایمیل:
* رایے: