
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ 'زلمے خلیل زاد اور افغان صدر کے درمیان ملک میں سیز فائر کی ضرورت سمیت متعدد امور پر بات چیت ہوئی۔'
انہوں نے کہا کہ 'صدر نے طالبان کی طرف سے مسلسل پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔'
ترجمان کا کہنا تھا کہ 'اشرف غنی نے اس عزم کو دہرایا کہ حکومت اور افغان عوام ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔'
زلمے خلیل زاد ایک سال سے زائد عرصے سے مذاکراتی عمل کی قیادت اور طالبان کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، معاہدے کے نتیجے میں افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد کم ہوجائے گی اور اس کے بدلے میں طالبان کو سیکیورٹی کی ضمانت دینا ہوگی۔
اگرچہ اشرف غنی کو امریکا نے مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رکھا ہے لیکن افغان صدر کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ طالبان ان کی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے آئے ہیں۔
امریکا اور طالبان ستمبر میں امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری لمحات میں مذاکرات معطل کر دیے تھے اور اس کے لیے انہوں نے طالبان کی جانب سے جاری پرتشدد واقعات کا حوالہ دیا تھا۔
طالبان کے حملوں میں کچھ کمی کے بعد یہ مذاکرات 7 دسمبر کو کابل میں دوبارہ بحال ہوئے لیکن طالبان کے بگرام ایئربیس پر حملے کے بعد یہ پھر رک گئے ہیں۔
اگرچہ کابل میں امریکی سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا لیکن دوحا میں رواں ہفتے مذاکرات پھر بحال ہونے کی امید ہے۔