IQNA

8:50 - March 07, 2020
خبر کا کوڈ: 3507339
تہران( ایکنا) سانحہ میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ بیسیوں زخمی ہیں۔ کابل میں عبدالعلی مزاری شہید کی برسی کے اجتماع پہ اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب وہاں انتہائی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات موجود تھیں۔ خودکش حملے کے وقت عبداللہ عبداللہ، کریم خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی موقع پہ موجود تھے تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزارہ قبیلے کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنایا گیا ہے اور اس سانحہ میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ بیسیوں زخمی ہیں۔ کابل میں عبدالعلی مزاری شہید کی برسی کے اجتماع پہ اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب وہاں انتہائی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات موجود تھیں۔ خودکش حملے کے وقت عبداللہ عبداللہ، کریم خلیلی اور سابق صدر حامد کرزئی موقع پہ موجود تھے تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق کابل میں حزب وحدت پارٹی کے سربراہ عبد العلی مزاری کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خودکش حملہ کیا گیا ہے، تقریب میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اعلٰی سطح کے حکومتی حکام کے علاوہ افغانستان کے سابق چیف ایگزیکیٹو عبد اللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی بھی موجود تھے۔

افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملے میں 27 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ 29 زخمی ہیں تاہم سابق چیف ایگزیکیٹو عبد اللہ عبداللہ اور حامد اللہ کرزئی حملے میں بال بال بچ گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے خودکش حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے واقعے کی پر زور مذمت کی، انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے بعد سے پُر تشدد کارروائیاں تھم جانا چاہیئے لیکن شر پسند امن پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ تاحال کسی شدت پسند جماعت نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ طالبان کی جانب سے جاری بیان میں بھی حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔

848788

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: