
اتوار کو نیٹو سربراہ نے افغانستان میں تشدد آمیز کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔
ینس اسٹولٹنبرگ نے ملک میں کوویڈ ۱۹ کے پیش نظر امدادی کاموں میں تعاون کے حوالے سے تشدد آمیز کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔ افغانستان میں اس وقت ۱۶ هزار نیٹو فورسز موجود ہیں۔
ینس اسٹولٹنبرگ نے موجود حالات کو کرونا سے مقابلے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح ایک المیہ جنم لے سکتا ہے۔
کابل کے مطابق اب تک کرونا سے دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ۱۱۶ کیسز سامنے آچکے ہیں. افغانستان میں کرونا روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات شروع کردئے گیے ہیں۔
۳۵ میلین آبادی والا ملک افغانستان جہاں صحت کے امکانات بہت محدود ہیں چین اور ایران سے سرحدیں ملنے کی وجہ سے کرونا پھیلاو کا خطرہ موجود ہے اور جنگ زدہ ملک کے لیے ایک اور تباہ کن مسلہ سامنے آسکتا ہے۔
کرونا سے بچاو کے لیے ملک کے مختلف جیلوں سے ۱۰ ھزار معمولی جرائم والے افراد کو آذاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکہ اور طالبان معاہدے کے بعد عام طور پر طالبان افغان فورسز کا نشانہ بنا رہا ہے۔/