
دارالقرآن آستانہ حسینی کربلا نے اس سال یوم بعثت پیغمبر(ص) ۲۷ رجب ۱۴۴۱ کو «عالمی یوم قرآن» مہم کا آغاز کیا اور منتظمین کے مطابق اس قرآنی مہم کو دنیا بھر سے مختلف طبقوں بالخصوص قرآنی قاریوں نے سراہا ہے۔
مذکورہ مہم شیخ عبدالمهدی کربلایی، متولی آستانہ حسینی اور نماینده آیتالله سیستانی کی حمایت اور تاکید پر شروع کیا گیا ہے۔
اس مہم کے حوالے سے شیخ حسن المنصوری سے ایکنا نیوز نے گفتگو کی ہے جو حاضر خدمت ہے۔
ایکنا ــ عالمی یوم قرآن مہم کے حوالے سے بتانا پسند کریں گے؟
دارالقرآن آستانہ حسینی بارہ سال سے خدمات انجام دے رہا ہے اور انکے پروگراموں سے عراق سمیت دیگر ممالک میں اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور عالمی یوم قرآن اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

عالمی یوم قرآن کے انتخاب سے پہلے ہم نے کافی سوچا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ یوم مبعث یا بعثت النبی(ص) بمطابق ۲۷ رجب کو اس دن کے لیے منتخب کیا جائے۔
ایکنا ـ اس مہم میں کن اھداف پر کام ہوگا ؟
اس مہم میں کوشش کی جائے گی کہ پوری دنیا میں مسلمانوں میں قرآن تعلیمات عام ہو اور عالمی سطح پر قرآن فھمی کو عام کیا جائے۔

خدا کی آخری کتاب اور زندہ معجزے کی مدد سے کوشش ہوگی کہ امت میں وحدت کو فروغ دیا جائے اور نبی مکرم اسلام(ص) اسلام کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے
ثقلین سے تمسک یعنی کتاب خدا اور اهل بیت پاک و مطهر سے فاصلے کو کم کرنے پر کام کریں گے۔
اس مہم میں دیگر ادیان سے آشنائی اور اسی کے ساتھ قرآن کو متعارف کرانے اور بقائے باہمی کے دروس کو عام کرنے پر کام ہوں گے۔

ایکنا ـ اب تک کتنے پروگرامز کن موضوعات پر کئے ہیں اور کورونا بحران میں پیشرفت کیسی ہے؟
اگرچہ کورونا نے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے تاہم اس موقع کو ہم غنیمت سمجھتے ہیں اور محسوس ہورہا ہے کہ لوگ خدا کی کتاب کی طرف رجوع کی اہمیت کو سمجھ لیں گے اور خدا سے توبہ و زاری کے زریعے سے رفع بلا کے لیے دست بہ دعا ہوں گے۔
مختلف قرآن موضوعات پر پروگرامز ہوچکے ہیں جنمیں قرآنی تحقیقی مقابلہ اور مہم «لعلکم ترحمون» نشر قرآن کے لیے اور آیت «فالله خیر حافظا و هو ارحم الراحمین» مقررہ وقت میں حرم امام حسین(ع) اور دیگر مساجد اور امام بارگاہوں میں رفع بلا با الخصوص کورونا خاتمے کے لیے جبکہ سورہ حجر میں تدبر کا مقابلہ شامل ہے۔

عراق کے اندر اور باہر سے مختلف اداروں اور مراکز ان پروگراموں میں شریک ہوئے ہیں. انگریزی، فرنچ، فارسی، اردو اور دیگر مختلف زبانوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں متعدد پروگرامز کے زریعے سے لوگوں کو عالمی یوم قرآن پر آگاہی دیں چکے ہیں۔
ایکنا ــ قرآنی افراد کا مختلف ممالک میں اس مہم کے حوالے سے کیا رد عمل سامنے آیا ہے؟
عنایت الهی اور برکات امام حسین(ع) کے صدقے، کورونا بحران کے باوجود مختلف سطح پر اس مہم کی پذیرائی ہورہی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے مبارکبادی کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور کم از کم ۱۲۰ معروف اہل قرآن ۱۴ ممالک سے جنمیں مصر کےقاری عبدالفتاح طاروطی، جیس لوگ شامل ہیں خوشی کا اظھار کرچکے ہیں۔
ایکنا ــ کن میڈیا میں اس حوالے سے آگاہی کا سلسلہ جاری ہے؟
ہر پروگرام کا خاص ایجنڈا اور طرز کار ہوتا ہے اور اس حوالے سے مشترکہ مشورے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کربلا سیٹلائٹ چینل سے اس کو متعارف کرایا جائے۔ جبکہ عراق میں دیگر قرآنی میڈیا بھی اس حوالے سے خدمات انجام دیں رہے ہیں۔
ایکنا ـ اس مہم کا مستقبل کیسے دیکھتے ہیں؟
دارالقرآن آستانہ حسینی مختلف سطح پر اس قرآنی مہم کو متعارف کرانے کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کررہے ہیں تاکہ قرآن کے پیغام امن و محبت کو عام کیا جائے اور آنے والے دنوں میں «کربلا ایوارڈ» کو اس مہم کے زریعے سے شروع کرانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
مصری قاری عبدالفتاح طاروطی نے مباکبادی کے پیغام میں کہا ہے کہ وحدت ملت کے لیے واحد راستہ قرآن مجید ہے اور اس سے تمسک کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ قرآن خدمات کا سلسلہ کامیاب ہو اور انکے صدقے خدا سب کو (کرونا) سے محفوظ رکھے۔
طاروطی نے پیغام کے ساتھ آیت ۹ سوره اسراء «إِنَّ هذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَ يُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْراً كَبِيراً: کی تلاوت بھی کی ہے۔/