IQNA

7:50 - July 18, 2020
خبر کا کوڈ: 3507937
تہران(ایکنا) سوشل میڈیا صارفین نے فلسطین کا نقشہ مٹانے پر FreePalestine# کا ٹرینڈ بھرپور انداز میں شروع کیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ سینچری ڈیل کی جانب متوجہ کراسکے۔

گوگل اور ایپل میں فلسطین کو حذف کرکے صھیونی غاصب کا حصہ پیش کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے بھرپور انداز میں غم و غصے کا اظھار کیا ہے۔

 

صارفین نے فلسطین جھنڈے اور «فلسطین» کے پرانے نقشے اپ لوڈ کرکے اسلامی اور عربی ممالک کے سربراہوں سے رد عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

 

فلسطینی وزیر خارجہ«ریاض المالکی» نے المیادین سے گفتگو میں کہا کہ فلسطین کی حکومت گوگل اور ایپل کے خلاف قانونی کارروائی ک درخواست کرسکتی ہے۔

 

بعض صارفین کا کہنا ہے «ھم اس مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟» لگتا ہے کہ اسرائیل فلسطین کو مکمل ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔

 

اینڈیا نیوز کا اس بارے میں کہنا تھا: اگر آپ گوگل پر «فلسطین» کا نام لکھے تو «Google Maps»( پر فلسطین کو نہیں دیکھ سکتے اور اس کی بجائے«اسرائیل» کا نام دیکھ لیں گے۔

 

رپورٹ کے مطابق صرف روسی سرچ انجن «یانڈکس» میں فلسطین کا نقشہ اب دیکھا جاسکتا ہے۔

 

سال ۲۰۱۶ میں بھی ایسی ہی کوشش پر صارفین نے جب غصے کا اظھار کیا تو گوگل کا کہنا تھا کہ فسلطین کا وجود ہی نہیں جنکو حذف کیا جاسکے!

 

گوگل اور ایپل کے اقدام پر حماس کا رد عمل

اسلامی جہادی تنظیم حماس کے ترجمان«حازم قاسم» نے  گوگل اور ایپل میں سے فلسطین کو مٹانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخی حقیقت کے منافی اقدام قرار دیا۔

 

ترک میڈیا کے مطابق قاسم کا کہنا تھا: گوگل کا اقدام صھیونی حمایت میں تاریخ سے روگردانی ہے۔

 

انکا کہنا تھا: فلسطین کا نام مٹا کر صھیونی حکام کی غیرقانونی اقدام کی حمایت کی جارہی ہے۔

 

حماس نے اس کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔/

3910994

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: