IQNA

9:35 - October 24, 2020
خبر کا کوڈ: 3508392
تہران(ایکنا) جہاں ایک طرف اسرائیل سوڈان سے تعلقات کی بحالی پر خوش اور پرامید ہے وہی پر اسلامی تنظیمیں ہر طرح کے تعلق پر خبردار کرتی نظر آتی ہیں۔

عربی اسکائی نیوز کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی وفد نے سوڈان کا دورہ کیا ہے جسمیں وزیراعظم کے نمایندے اور سلامتی امور کے اعلی حکام شریک تھے جنہوں نے بدھ کو سوڈان کا دورہ کیا ہے۔

 

سوڈانی وزیراعظم کی شرط

 

روزنامہ «القدس العربی» کے مطابق سوڈانی وزیراعظم عبدالله حمدوک نے کہا ہے کہ تعلقات بحالی کے لیے پارلیمنٹ کی رضامندی ضروری ہوگی۔

 

رپورٹ کے مطابق تعلقات کی بحالی کے حوالے سے حمدوک پر امریکی اور اسرائیل دباو ہے۔

 

زرائع کے مطابق تعلقات بحالی کا پروسیس آسان نہ ہوگا کیونکہ سوڈانی فوج اور پارلیمنٹ میں تقسیم قدرت کا مسئلہ موجود ہے ۔

 

مجمع فقه اسلامی سوڈان کی مخالفت

 

فقه اسلامی الائنس نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ مجمع کے مطابق علما ک مشترکہ فیصلہ ہے کہ یہ تعلقات بحال نہ ہوںگے۔

 

مذکورہ الاینس کے مفتیوں نے فتوی دیا ہے کہ اسرائیل امت اسلامی و عربی کے خلاف ہے جو فلسطین و مسجدالاقصی پر قبضہ جما رہا ہے۔

 

امت پارٹی سوڈان کی دھمکی

سوڈان- اسرائیل تعلقات اپ ڈیٹ

سوڈان کی امت پارٹی کے سربراہ صادق المهدی نے بھی اعلی حکام کو اسرائیل سے تعلقات کی بحالی پر خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں پر وہ حکومت کی حمایت ختم کرسکتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کررہا ہے اور تعلقات بحالی کا امن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

 

المهدی کا کہنا تھا: عارضی حکومت کو تعلقات بحالی کا حق اور اختیار حاصل نہیں اور اگر انہوں نے ایسا قدم اٹھاتا تو وہ حاکمیت کھو سکتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا: امت پارٹی نے وکلاء سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیلی بائیکاٹ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف مقدمہ دائر کریں۔/

3930835

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: