
ریڈیو قرآن مصر سال ۱۹۶۴ سے شروع کیا گیا تاکہ تحریف قرآن اور شدت پسندی سے اس طریقے سے مقابلہ کیا جاسکے۔
قاری عبدالباسط کی بتیسویں برسی پر ان قرآء کا ذکر کرتے ہیں جنکی وجہ سے ریڈیو مصر کو عالمی شہرت ملی۔
قاری استاد عبدالباسط
عبدالباسط عبدالصمد ایک قرآنی گھرانے میں پیدا ہوا اور آپ کے دادا عبدالصمد اور والد شیخ محمد عبدالصمد معروف قاریوں میں شمار ہوتا ہے۔
عبدالباسط سال ۱۹۸۴ کو مصری قرآء کی انجمن کا صدر بنا خاص آواز اور خوبصورت تلاوت کی وجہ سے انکو «گولڈن گلے کا قاری»، «ملکوتی آواز» اور «صوت مکه» کے عنوانات سے نوازا گیا۔ «شيخ الضباع» نے عبدالباسط کے استاد سے درخواست کی کہ وہ قاری باسط کو ریڈیو مصرسے منسلک کریں جس کے بعد ریڈیو مصر کو عالمی شہرت ملی۔. عبدالباسط ۳۰ نومبر سال ۱۹۸۸کو شوگر کی بیماری سے انتقال کرگیے۔
شیخ محمود خلیل الحصری
الحصری نے ریڈیو مصر کے امتحان میں کامیابی کے بعد ریڈیو میں شمولیت کی اور یہاں سے انکو خوب پذیرائی ملی، الحصری پہلا قاری ہے جس نے ترتیل میں تلاوت ریکارڑ کی۔
مصری قاری سال ۱۹۶۸ کو انجمن قرآن مصر کا صدر منتخب ہوا، عالم طور پر الحصری کو قاری عبدالباسط، منشاوی، مصطفی اسماعیل جیسے معروف قرآء کا ہم پلہ شمار کیا جاتا ہے۔
استاد محمود علی البنا
محمود علی البنا بچپن سے قرآت کے شوقین تھے اور حفظ کے لیے راتوں کا جاگ کر گزارتے، ۲۰ سال کی عمر میں ریڈیو مصر جوائن کرلیا۔ استاد محمود علی البنا کو مختلف انداز تلاوت میں مہارت حاصل تھا۔
شیخ محمود نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور دلنشین تلاوت سے دنیا بھر میں انکے چاہنے والے موجود ہیں۔ وہ امام جماعت مسجد الملک ، قاری مسجد الرفاعی اور سال ۱۹۵۹ کو قاری مسجد امام حسین(ع) بنا. شیخ محمود سال ۱۹۸۰ کومسجد امام حسین(ع) قاهره میں منتقل ہوئے اور سال ۱۹۸۵ کو دنیا سے رخصت ہوئے۔
استاد احمد نعینع
احمد نعینع سال ۱۹۵۴ کو کفر الشیخ کے شهر مطبوس میں پیدا ہوئے اور صرف آٹھ سال کی عمر میں حافظ کل بنا. احمد نعینع ریڈیو مصر کے معروف قرآء میں شمار ہوتا ہے ، اگرچہ وہ اسکندریہ یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالب علم تھے تاہم قرآنی شعبے میں وہ قرآت پر بہت توجہ دیتے تھے ۔ختم قرآن «صدق الله العلی العظیم» نعینع کی یادگار ہے جبکہ بعض قرآنی ماہرین کی نظر میں وہ مصر بلکہ دنیا کے بہترین قاری شمار کیا جاتا ہے۔
محمد صدیق منشاوی
محمد صدیق منشاوی آٹھ سال کی عمر میں حافظ کل بنا۔ انکے والد شیخ صدیق منشاوی نے انکو فن قرائت قرآن سے آشنا کیا۔ محمد صدیق منشاوی نے ۹ سال کی عمر میں والد کے ساتھ مجالس میں تلاوت شروع کی۔ شیخ محمد صدیق کو غمگین انداز میں تلاوت کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت حاصل ہے. انکی تلاوت کی شہرت سن کر ریڈیو مصر نے ان سے ریڈیو جواین کرنے کی درخواست کی جس کو انہوں نے رد کیا اور پھر ریڈیو مصر نے پہلی بار پورا سسٹم انکے آبائی علاقہ منتقل کرکے انکی تلاوت ریکارڑ کی اور ریڈیو مصر سے دنیا میں انکی تلاوت نشر ہونا شروع ہوئی۔/
محمد محمود طبلاوی
محمد محمود طبلاوی کو مصر میں علامه ترتیل و تلاوت کے نام سے شہرت حاصل ہے. شیخ محمد محمود طبلاوی بارہ سال کے تھے جب انکو اعلی سطی پروگراموں میں خصوصی طور پر تلاوت کی دعوت ملنے لگی ۔
انکو لمبی تلاوت میں خوبصورتی سے مسلسل تلاوت پر عبور حاصل تھا ۔ا نہوں نے عظیم قرآء محمد رفعت، على محمود، محمد سلامه، صيفى، بهتيمى اور مصطفى اسماعيل سے کسب فیض کیا۔
محمدسید نقشبندی
شیخ محمدسید نقشبندی، سال ۱۹۲۰ کو مصری شہر دمیره میں پیدا ہوئے جنکو خوبصورت اور دلنشین آواز کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہے قرآنی تلاوت کو مختلف انداز میں پڑھنے کی وجہ سے انکو بہترین تواشیح خوانوں میں شمار کیا جاتا ہے؛ اور اور اسی بنیاد پر انکو الصوت الخاشع(آواز خاشع)، کروان الربانی( ملکوتی پرندہ)، قیثاره السماء(ساز آسمانی) اور امام المبتهلین کے عنوانات سے یاد کیا جاتا ہے۔/