ایران- فلپائن مذہبی گفتگو؛ ماحول کی تخریب قرآن کے خلاف ہے / مذہب سے غفلت اور انسان کا اضطراب

IQNA

ایران- فلپائن مذہبی گفتگو؛ ماحول کی تخریب قرآن کے خلاف ہے / مذہب سے غفلت اور انسان کا اضطراب

8:10 - December 08, 2020
خبر کا کوڈ: 3508600
تہران(ایکنا) ادارہ ثقافت کے سربراہ نے مذہبی گفتگو میں فلپائنی کیھتولک پادری سے غفلت کو انسانی پریشانی کی اہم ترین وجہ قرار دیا۔

فلپائنی کھیتولک اور ایران کے ادارہ ثقافت کے درمیان مذہبی گفتگو کے ساتویں دور جو «انسانی سلامتی میں مذہب کا کردار» عنوان سے آن لائن منعقد ہوئی، اس میں دونوں ممالک کے دانشور اور علما شریک تھے۔

 

ویبنار میں ایرانی صدر کے مشیر حجت اسلام یونسی، مرکز گفتگو بین المذاہب کے سربراہ، محمدمهدی تسخیری، ایرانی میڈیکل مرکز کے رکن محمدحسین نیکنام، اسلامی علوم و ثقافتی مرکز کے حبیب‌الله بابایی، اسقف اعظم پابیللو، کیتھولک کانفرنس کے جنرل سیکریٹری برنارڈ پانٹین، بین المذاہب کانفرنس فلپائن کے اسقف اڈوین ڈلا پنا نے شرکت اور خطاب کیا۔

ادارہ ثقافت و تعلقات اسلامی کے سربراہ ابوذر ابراهیمی‌ترکمان عصر حاضر کی مشکلات اور کورونا بحران کے حوالے سے کہا: انسانی سلامتی کے لیے سب سے بڑی بلا روحانی اور معنوی پریشانی ہے کہ اسی کی بنیاد پر دیگر جرائم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ میڈیکل شعبے نے انسانی سلامتی کےلیے مناسب خدمات انجام دیا ہے لیکن روح کی سلامتی کے لیے قابل قدر کام انجام نہیں دیا گیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ انسان اگر تمام مالی مشکلات پر قابوپالے تو کیا وہ سکون حاصل کرسکتا ہے؟

ابراهیمی‌ترکمان نے مشکلات کی وجہ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دین کے ظاہری احکام پر سرسری عمل اور روح دین سے سرگردانی اہم ترین وجوہات میں شامل ہے۔

 

انکا کہنا تھا: اس مادی دور میں انسانوں کو اشیاء کے ظاہر تک محدود کردیا گیا ہے اور وہ باطن اور اشیاء کی حقیقت تک پہنچنے سے روک دیا گیا ہے حالانکہ اہل دل کشف و شہود تک سفر کرتا ہے.

 

ابراهیمی‌ترکمان کا کہنا تھا کہ معنویت اور روحانیت دوا ہی نہیں بلکہ غذا کی مانند ہے جو صرف بیمار نہیں بلکہ تمام سالم انسانوں کی ضرورت ہے اور جب تک اس پر یقین نہیں کیا جاتا مشکلات بدستور باقی رہیں گی۔

 

انکا کہنا تھا کہ معنویت کو درس نہیں دیا جاسکتا بلکہ اسکو زائقہ چکنا ہوگا اور اس میں وہی لوگ رھنمای کرسکتے ہیں جنہوں نے خود اسکا تجربہ کرلیا ہوں۔

 

منیلا کے اسقف اعظم پابیلو، نے بھی کورونا کے حوالے سے کہا کہ ایک بن بلائے مہمان ہے جس نے دنیا کو تہہ و بالا کردیا ہے اور اس سے مقابلے کے لیے مذہب کی اہمیت بھی اجاگر ہوتا ہے۔

 

کرونا نے انسانوں کو خدا کی جانب متوجہ کیا ہے

انکا کہنا تھا کہ کورونا کی مشکل نے دنیا اور انسان کو خدا کی جانب رجوع کرنے کا درس دیا ہے۔

 

اسقف اعظم پابیلو کا کہنا تھا کہ کورونا نے یہ پیغام دیا ہے کہ سب کو ملکر وحدت کے ساتھ کورونا جیسے چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

 

 

منیلا میں ایرانی سفیر علیرضا توتونچیان نے خطاب میں بقائے باہمی کے لیے بین المذاہب گفتگو کو اہم قرار دیتے ہوئے ان نشستوں کو قابل قدر قرار دیا ۔

 

انہوں نے ایران- فلپاین علما میں گفتگو کے ساتویں دور کو دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا اور کہا کہ سلامتی اور وباء سے مقابلوں کےلیے مذہب ہماری بہترین رھنمائی کرتا ہے۔

 

 

فلپاین کے مسیحی رھنما کارڈینال اڈوینکلا، نے ویڈیو خطاب میں عصر حاضر کے بحران میں ایران- فلپاین گفتگو کو اہم قرار دیا اور کہا اس طرح کی ہم آہنگی سے چینلجیز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

 

ادارہ ثقافت و تلعقات اسلامی کے بین المذاہب گفتگو مرکز کے سربراہ حجت‌الاسلام محمدمهدی تسخیری نے انسانی فطرت کو تمام انسانوں میں مشترک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان میں بیمشار صلاحتیں موجود ہیں جو کسی اور مخلوق نہیں اور اسی وجہ سے انسانی کی خلقت پر خدا نے خود کی تعریف کی ہے۔ مومنون ۱۴

 

حجت‌الاسلام تسخیری نے کہا کہ اسلام میں ایکو سسٹم کے حوالے سے بیشمار تربیتی احکامات موجود ہے اور ان سے عدم توجہ کی وجہ سے دنیا آج ان مشکلات کا شکار ہے۔

حجت‌الاسلام تسخیری نے  ایڈز(HIV)،آبولا، سارس و مرس(MERS)  جیسے امراض کو صحت کے اصولوں جنکی اسلامی تاکید کرتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے روگردانی کی وجہ قرار دیا۔/

3939690

 

نظرات بینندگان
captcha