
مراکشی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عنقریب اسرائیل سے تعلقات بحال کریں گے۔
محمد ششم، بادشاہ نے کہا ہے کہ رباط- تل ابیب پرواز شروع ہوگی جس سے سیاح ایکدوسرے کے ملک آجاسکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور بادشاہ محمد کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اس بات کا اعلان کیا گیا ہے۔
جبکہ امریکہ نے بھی مغربی صحرواوں پر مراکش کی حاکمیت قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بھی رابطہ کا حصہ ہے ، مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ امریکہ شهر الداخله میں قونصلیٹ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے مغربی صحراوں پر مراکشی حاکمیت کو تقریت ملے گی۔
مراکش کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ نے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور انسانی حقوق تنطیم کے ڈپٹی
احمد ویحمان نے کہا ہے کہ مراکش کے عوام مکمل طور پر فیصلے کو مسترد کرتی ہے اور فلسطینی حقوق کے لیے پرعزم ہے۔
فلسطین کے مختلف تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور بیان میں کہا گیا ہے کہ غاصب رژیم سے جلد بازی میں دوستی قابل مذمت ہے اور ایک کمزور ملک کا فیصلہ اسرائیل کے لیے بھی کمزوری کی علامت ہے۔
مختلف تنظیموں نے بیان میں اس فیصلے کو عوام اور فلسطین سے خیانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطین مخالف پالیسیوں کو تقویت دینے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔
محمد عبدالسلام ترجمان انصارالله یمن نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اسلامی یا عربی ملک کے دعویدار اس طرح کی خیانت نہیں کرسکتا ہے۔
مصری صدر نے عبدالفتاح السیسی نے فیصلے کو امن کی طرف قدم کا دعوی کیا ہے۔
محمد بن زاید ولیعهد ابوظبی نے بھی فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے امن کو تقویت ملے گی۔
بحرین کے حمد بن عیسی آل خلیفه نے بھی فیصلے کو علاقے کی ترقی اور پیشرفت کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے داماد اور اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اقدام کو خوش آیند قرار دیتے خوشی کا اظھار کیا ہے۔/