
ادارہ ثقافت وتعلقات اسلامی کے سربراہ ابوذر ابراهیمی ترکمان نے بین الاقوامی ویبنار بعنوان«شهدائے قدس؛ شهید حاج قاسم سلیمانی و شهید ابومهدی المهندس» میں آیت ۱۴۶ سوره «اعراف» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ سردار سلیمانی کی بصیرت بے مثال تھی اور اس کی وجہ خدا سے قربت تھی۔
انکا کہنا تھا کہ سردار کی زندگی کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ روز ازل سے خدا کی قربت کا خواہاں رہا زندگی کے آخری لمحات تک وہ اس پر قایم رہے۔
ترکمان نے کہا کہ سردار کو خدا نے خاص بصیرت عطا کی تھی اور وہ مخلصانہ انداز میں سرگرم عمل رہے۔
انکا کہنا تھا کہ عراق کے حالات بتا رہے تھے کہ اگر وہاں پر سردار سلیمانی کی تدابیر نہ ہوتی تو بدامنی ایران بلکہ تمام علاقے کو گھیر لیتی۔
انکا کہنا تھا کہ سردار سلیمانی نے اس شدت پسند تحریک کا راستہ روکا اور تعجب ہوتا ہے کہ شدت پسندی سے جنگ کے دعویدار مغربی ممالک کیسے قاسم سلیمانی کی شہادت پر راضی رہیں کیا سردار سلیمانی نے شدت پسندی سے جنگ نہ کی؟
انکا کہنا تھا کہ اس شدت پسند گروپ جسکو مغربی حمایت حاصل تھی کے خلاف سردار نے جنگ سے اس کا راستہ روکا اور آج انہیں کی بدولت ایک امن قائم ہوا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سردار سلیمانی عالمی سطح پر امن کے خواہاں تھے ۔
انکا کہنا تھا سردار سلیمانی شیعہ سنی یا مسلمان ہونے سے ہٹ کر انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتے تھے اور خدا سے عشق و ایمان کا یہی خاصہ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ضرورت ہے کہ اس عالمی سطح کی شخصیت کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے۔
انکا کہنا تھا کہ سردار سلیمانی کی شہادت کے بعد عالمی سطح پر پذیرائی نے امریکی چہرے نقاب ہٹا دیا اور ٹرمپ کی رسوائی کا باعث بھی بنا۔/