IQNA

6:54 - February 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3508950
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار ہونے میں چند فوجی افسران ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا اور اس کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی، احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن فی الوقت انہیں علم نہیں ہے کہ احسان اللہ احسان کہاں ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان کی جانب سے نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پر دھمکی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'میری معلومات کے مطابق جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملالہ کو دھمکی دی گئی وہ ایک جعلی اکاؤنٹ تھا۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ برس فروری کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ احسان اللہ احسان مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

 

بعد ازاں 17 فروری کو وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کی تصدیق کی تھی۔

 

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی فروری میں پہلی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو 'پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جبکہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گرد گروہ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔

 

اگست 2020 میں میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران احسان اللہ احسان کے فرار اور اس کے بعد مبینہ آڈیو ٹیب سے متعلق سوال پر تصدیق کی تھی کہ ایک آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان کو استعمال کیا جارہا تھا اور وہ اس دوران فرار ہوگیا۔

 

17 اپریل 2017 کو پاک فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔

1154677

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: