IQNA

14:49 - March 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3508968
آیت ۲۲ سوره مبارکه «احزاب» ایسی آیت ہے جو دشمن کے مقابلے میں تیار رہنے اور خدا و رسول کے وعدوں پر یقین کی دعوت دیتی ہے جو ہماری طاقت میں اہم عنصر شمار کیا جاسکتا ہے۔

رهبر معظم انقلاب نے  مجلس خبرگان رهبری کی ملاقات میں آیت ۲۲ سوره احزاب کی طرف اشارہ کیا : «جب تک انسان جاہل دشمنوں کے اتحاد کا سامنا نہیں کرتا تب تک وہ اس آیت کو نہیں سمجھ سکتا جسمیں کہا گیا ہے «وَلمّا رَءَا المُؤمِنونَ الاَحزابَ قالوا هٰذا ما وَعَدَنَا اللهُ وَ رَسولُه، وَ صَدَقَ اللهُ وَ رَسولُه وَ ما زادَهُم ‌اِلّا ایمانًا وَ تَسلیمًا»؛ یعنی جب ہم ایک سخت مرحلے میں گرفتار ہوجائے تو گبھراہٹ کا شکار نہ ہو اور نہ دوسروں کو ڈرائے اور یہ خدا کا وعدہ ہےهٰذا ما وَعَدَنَا اللهُ وَ رَسولُه.»

 

آیت: «وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا»

 

ترجمه آیت: «جب مومنین نے دشمن کے گروپس کو دیکھا تو کہا: «اور یہ وہی ہے جس کا خدا اور اسکے رسول نے بتا دیا ہے»، اور سوائے ایمان کے اور کچھ اضافہ نہیں ہوتا.»

 

آیت‌الله مکارم شیرازی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں «خداوند اس آیت میں مومنین کے ایمان کی طرف اشارہ کرتا ہے: یعنی جب انہوں نے دشمنوں کے لاولشکر کو دیکھا تو گبھرانے کی بجائے کہا کہ اس کو خدا و رسول نے پہلے ہی بتایا ہے اور انکے ایمان ہی میں اضافہ ہوتا ہے (و لما راء المؤمنون الاحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله و رسوله و صدق الله و رسوله و ما زادهم الا ايمانا و تسليما). یہ کونسا وعدہ ہے جو خدا و رسول (صلى اللّه عليه و آله و سلّم ) نے دیا تھا؟

 

بعض کہتے ہیں کہ یہ وہی ہے جو رسول اسلام (ص) جلد عرب کے قبائل اور تمھارے دشمن یکجا ہوکر تمھاری طرف آئیں گے مگر کامیابی تمھاری ہے۔

 

لہذا انہوں نے کہا کہ رسول (ص) کی پہلی بات پوری ہوئی اور دوسری بات بھی ہوکر رہے گی یعنی ہماری کامیابی۔

 

سوره بقره آيت ۲۱۴ میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ کیا تمھارا متحان نہیں لیا جائے گا جس طرح تم سے پہلے لوگوں کا لیا جنہوں نے سختی میں کہا کہ کہاں ہے خدا کا وعدہ؟

 

 خلاصہ انہوں نے احزاب کو دیکھ کر کہا کہ خدا و پيغمبر (ص) کا وعدہ درست ہے اور انکے ایمان میں اضافہ ہوا ہے۔

 

مرحوم آیت‌الله هاشمی رفسنجانی بھی اس آیت کی تفسیر میں یوں فرماتے ہیں:

 

ـ مسلمانوں نے مدینه میں احزاب کو دیکھ کر کہا کہ خدا کا وعدہ درست ہے۔

 

ـ مسلمانوں کا اس بات کا یقین تھا۔

 

ـ مسلمانوں کے ایمان میں اس کے دیکھنے سے اضافہ ہوا.

 

ـ  ایمان خطرے کو فرصت میں بدل دیتا ہے اور روایت کے مطابق اہل ایمان نے احزاب کو دیکھ کر کہا کہ خدا و رسول کا وعدہ درست ہے جبکہ منافقین نے کہا کہ  (ما وعدنا اللّه و رسوله إلاّ غروراً) ۔

اہل ایمان کو خدا کے وعدوں پر یقین ہوتا ہے ۔/

 

3956630

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: