IQNA

9:53 - April 23, 2021
خبر کا کوڈ: 3509182
جناب خدیجہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں قرآن مجید کی رو سے سب سے پہلے ام المؤمنین ہونے کا شرف حاصل ہے۔

حضرت خدیجہ (س) کے فضائل و مناقب اور آپ کی اخلاقی خصوصیات اور ایمانی مراتب کو اگر کتاب کی صورت میں مرتب کیا جائے تو اس سلسلے میں منقولہ روایات و احادیث کو اکٹھا کرکے کافی ضخیم اور حجیم کتاب لکھی جاسکے گی۔ دس رمضان کو عالم اسلام ام المومنین حضرت خدیجہ س کا یوم وفات مناتا ہے اس حوالے سے انکی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

آپ کے والد گرامی خویلد بن اسد اور والدہ جناب فاطمہ بنت زائدہ بن اصم ہیں۔ نسب کے چند واسطوں سے آپ کا تعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد سے جا ملتا ہے۔  والد کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب اس طرح  سے ہے: خدیجه بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزى بن قصى بن کلاب۔ جبکہ والدہ کی طرف سے نسب اس طرح سے ہے: خدیجه بنت فاطمه بنت زائده بن اصم بن رواحه بن حجربن عبدبن معیص بن عامربن لُوَى بن غالب. لُوَی جو کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد ہشتم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک دوسرے کو چچا کے بیٹے (ابن عم) اور چچا کی بیٹی (بنت عم) کہہ کر پکارتے تھے۳۷۔ آپ  کی ولادت ہجرت سے 68 سال پہلے ہوئی۔ آپ ایسی خصوصیات کی حامل تھیں جنہیں نمونہ عمل قرار دے کر دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان خصوصیات کا بطور اختصار ذکر کیا جا رہا ہے۔

خاتونِ علم و ایمان

خدیجہ (س) حقیقتاً ایک عقلمند اور شریف خاتون تھیں۔ ابن جوزی رقمطراز ہے: "خدیجہ ـ یہ پاک طینت خاتون ـ جن کی خصوصیات میں فضیلت پسندی، فکری جدت، عشق و کمال اور ترقی جیسی خصوصیات شامل ہیں ـ نوجوانی کی عمر سے ہی حجاز اور عرب کی نامور اور صاحب فضیلت خاتون سمجھی جاتی تھیں

آپ کی مادی قوت اور مال و دولت سے زيادہ اہم آپ کی بے انتہا معنوی اور روحانی ثروت تھی۔ آپ نے اپنا رشتہ مانگنے والے اشراف قریش کی درخواست مسترد کرکے رسول اللہ (ص) کو شریک حیات کے عنوان سے منتخب کیا اور یوں مادی و دنیاوی ثروت کی نعمت کو آخرت کی سعادت اور جنت کی ابدی نعمتوں سے مکمل کیا اور اپنی عقلمندی و دانائی اپنے زمانے کے لوگوں کو جتادی۔ آپ نے اس نعمت کے حصول کے لئے سب سے پہلے رسول اللہ (ص) کی تصدیق کی، اسلام قبول کیا اور اسلام کی پہلی نماز رسول اللہ (ص) کے ساتھ ادا کی۔

اسلام اور نماز میں سابق

تاریخ و سیرت کا جائزہ لے کر ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) کا سب سے پہلے قبول اسلام مسلّمات میں سے ہے؛ تمام مصادر اس سلسلے میں متفق القول ہیں کہ خدیجہ (س) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا؛[38] حتی کہ بعض مصادر نے اس سلسلے میں اجماع کا دعوی کیا ہے۔[39] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ علی(ع) خدیجہ (س) کے بعد اولین ہیں جو رسول اللہ (ص) پر ایمان لائے۔[40] نیز مصادر و ذرائع نے "السابقون الاولون" کے مصادیق بیان کرتے ہوئے حضرت خدیجہ (س) اور علی (ع) کو اولین مسلمان قرار دیا ہے۔[41] نیز تاریخ و سیرت بتاتی ہے کہ خدیجہ (س) اور علی (ع) عالم اسلام کے اولین نماز گزار ہیں۔[42]

ترقئ اسلام میں کردار

حضرت خدیجہ (س) نے اسلام و رسول خدا (ص) کی نبوت و رسالت پر ایمان کو اپنے عمل سے ملا لیا اور اس حدیث شریف کا مصداق ٹھہریں جس میں کہا گیا ہے کہ "ایمان قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعضاء و جوارح کے ذریعے عمل کا نام ہے"۔[43] چنانچہ حضرت خدیجہ (س) نے قرآن کے احکام پر عمل اور اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی امداد کے لئے اپنی دولت خرچ کرکے، رسول خدا (ص) کے مقدس اہداف کی راہ میں اپنی پوری دولت کو قربان کر گئیں اور اسلام کی ترقی و پیشرفت میں ناقابل انکار کردار ادا کیا۔ "سليمان الکتاني" کہتا ہے: سیدہ خدیجہ (س) نے اپنی دولت نبی محمد (ص) کو بخش دی مگر وہ یہ محسوس نہیں کر رہی تھیں کہ اپنی دولت آپ (ص) کو بخش رہی ہیں بلکہ محسوس کر رہی تھیں کہ اللہ تعالی جو ہدایت محمد (ص) کی محبت اور دوستی کی وجہ سے، آپ کو عطا کر رہا ہے دنیا کے تمام خزانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔[44] یا دیگر آپ محسوس کر رہی تھیں کہ اس واسطے سے محبت اور دوستی کا تحفہ آپ (ص) کو دے رہی ہیں اور اس کے عوض سعادت اور خوش بختی کی تمام چوٹیوں کو سر کررہی ہیں۔

حضرت خدیجہ (س) کی مالی امداد کے بدولت رسول خدا (ص) تقریبا غنی اور بے نیاز ہوگئے۔ خداوند متعال آپ (ص) کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى(ترجمہ: اور [خدا نے] آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا)۔[45] رسول خدا (ص) فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة(ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہ (س) کی دولت نے پہنچایا۔[46] رسول خدا (ص) نے خدیجہ (س) کی ثروت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے؛ یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے؛ شعب ابی طالب (ع) کے واقعے کے دوران خدیجہ (س) کی دولت بنو ہاشم [اور بنو المطلب] کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کہ منقول ہے:

أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالهما"(ترجمہ: ابو طالب (ع) اور خدیجہ (س) نے اپنا پورا مال [اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں] خرچ کیا۔[47] شعب ابی طالب (ع) میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہ (س) کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنو ہاشم کو پہونچا دیتا تھا۔[48]

خاتون حجاز کی نمایاں خصوصیت آپ کی سخاوت اور کرامت و بخشندگی ہے۔ آپ نے اپنی عظیم ثروت مکمل طور پر رسول اللہ (ص) کو بخش دی تا کہ آپ (ص) اس کو محرومین کی نجات، بھوکوں کا پیٹ بھرنے، یتیموں کو پناہ دینے اور عدل و انصاف اور آزادی و حریت کو فروغ دینے میں صرف کریں؛ اور ان کی یہ بخشش اس قدر خالصانہ تھی کہ خداوند متعال نے اس کی تکریم فرمائی اور خدیجہ (س) کی اس بخشش کو اپنے عظیم مواہب اور نعمتوں کے زمرے میں قرار دیا جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے محمد (ص) کو عطا کی ہیں۔[49] پیغمبر (ص) بھی اس قابل احترام اور بزرگ خاتون کی سخاوت و ایثار کو عظمت کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے۔[50]

حضرت خدیجہ (س) پیغمبر (ص) کی یار و مددگار تھیں جو اسلام قبول کرنے میں پیشرو تھیں اور جنہوں نے اپنی پوری دولت اسلام کے فروغ اور مظلومین کی دستگیری کے لئے آپ (ص) کو بخش دی اور اسلام کی ترویج اور رسول اللہ (ص) کے اہداف و مقاصد کے حصول میں بے مثل کردار ادا کیا اور صداقت و ایمانداری، استقامت، مقصد کی راہ میں ثابت قدمی، مظلومین کی حمایت اور راہ حق میں انفاق و خیرات اور عطا و بخشش کا عملی نمونہ تھیں۔ ان نمایاں ذاتی خصوصیات نے آپ کو طاہرہ، صدیقہ، سیدۃ نساء قریش، خیر النساء، ام المؤمنین وغیرہ جیسے القاب کی مستحق ٹھہریں۔

وفات

مصادر و ذرائع میں منقول ہے کہ سیدہ خدیجہ (س)، سنہ 10 بعد از بعثت (یعنی 3 سال قبل از ہجرت مدینہ) ہے۔[51] زیادہ تر کتب میں ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔[52] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ خدیجہ (س) کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ، تھی۔[53] بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہ(س) کا سال وفات ابو طالب (ع) کا سال وفات ہی ہے۔[54] ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) ابو طالب (ع) کی رحلت کے 355 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔[55] وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سنہ 10 بعد از بعثت ہے۔[56] اور رسول اللہ (ص) نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلی' (یا جنت المعلی') میں سپرد خاک کیا۔[57]

حوالہ جات 37 تا 57

37: ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص 300۔

38: ابن خلدون، تاريخ‏ ابن‏ خلدون، ج‏2، ص410؛ ابن کثیر، البدايۃ والنہايۃ، ج‏3، ص23؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1817۔

39: ابن اثیر جزری، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، ج6، ص 78۔

40 ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817۔

41: مقریزی، امتاع الاسماء، ج9، ص88

42: ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ،ج‏6، ص78؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص 1089۔

43: کلینی، الکافی، ج2، ص 27۔"۔۔۔ والايمان ہو الاقرار باللسان وعقد في القلب وعمل بالاركان والايمان"۔

44: علي محمد دخيل، خديجۃ(ع)، ص 32۔ "يقول الكاتب العربي المسلم سليمان الكتاني، ان السيدۃ خديجۃ وہبت ثروتہا للنبي محمد(ص) لكنہا لم تشعر بأنہا وہبت ثروتہا لہ، بل انہا كانت تشعر بأن الہدايۃ التي حباہا اللہ اياہا عبر النبي(ص) تفوق كل كنوز العالم"۔

45: سورہ ضحی (93) آیت 8۔

46: مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 63۔

47: مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 16۔

48: ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: رسولی محلاتی، ج1، ص 221۔

49: مجلسی، بحارالانوار، ج35، ص 425؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص 320۔

50: ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج‏4، ص 1817۔

51: مسعودی، مروج‏ الذہب، ج2، ص 282؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14۔

52: طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص493: «و توفيت قبل الہجرۃ بثلاث سنين، و ہي يومئذ ابنۃ خمس و ستين سنہ»۔

53: ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1818۔

54: طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151۔

55: ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج‏1، ص96۔

56: ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج 8 ، ص14۔

57: ابوالحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: